وزیراعظم اور چیف منسٹر گجرات سے ’راج دھرم ‘ نبھانے کانگریس کا مشورہ ، یوپی گیر احتجاج ، اپوزیشن کی تنقید
احمدآباد ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندی بولنے والے تارکین وطن کا گجرات میں ان پر حملوں کے بعد خروج ریاست کے کئی علاقوں سے آج بھی جاری رہا اور اس میں کمی کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ اس تنازعہ کے نتیجہ میں آج اپوزیشن پارٹیوں اور بی جے پی کے درمیان ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس نے آج گجرات کی صورتحال کو سنگین اور انتہائی حساس قرار دیا کیونکہ ہندی بولنے والے تارکین وطن ان پر حملوں کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں سے اپنے اپنے وطن واپس ہورہے ہیں۔ کانگریس نے چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی اور وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ وہ ’’راج دھرم‘‘ نبھائیں اور صورتحال کو معمول پر لائیں۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاست کے عوام سے معذرت خواہی کریں کیونکہ وہ عوام کے مسائل سے بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور روپانی زیرقیادت گجرات کی ریاستی حکومت کو بے گناہ قرار دے رہے اور اچھے کردار کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں۔ ضلع سابرکنٹھا میں ایک 14 ماہ کی لڑکی کا زنا بالجبر ہوا تھا اور ایک مزدور کو جو بہار کا متوطن تھا اس جرم کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ شمالی گجرات کے بیشتر اضلاع میں اس کے بعد ہندی داں افراد پر ریاستی عوام کے حملہ شروع ہوگئے۔ تشدد کے منتشر واقعات پیش آئے جس کے بعد یہاں سے ہندی داں افراد کا اجتماع خروج شروع ہوگیا جس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ دریں اثناء لکھنؤ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس نے ریاست اترپردیش میں ہندی داں کارکنوں کی گجرات سے حملوں کے نتیجہ میں واپسی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کئے۔ لکھنؤ میں کئی کانگریسی کارکنوں نے پارٹی کے دفتر سے ایک جلوس نکالا اور مرکزی اور حکومت گجرات کے خلاف نعرہ بازی کی۔ پارٹی کے ترجمان انشو اوشتھی نے کہا کہ مختصر سا فاصلہ طئے کرنے کے بعد احتجاجیوں کو پولیس نے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرین نے مرکزی اور حکومت گجرات کے پتلے نذرآتش کئے۔ اسی قسم کے احتجاجی مظاہرے کئی اضلاع بشمول ہردوئی، سیتاپورم، گونڈا، بستی، بارہ بنکی اور وارناسی میں کئے گئے۔ گورکھپور میں ضلع جنرل سکریٹری انور حسین کی زیرقیادت احتجاجی مظاہرہ کیا اور پوسٹر چسپاں کئے جن پر یہ پیغام درج تھا کہ اترپردیش میں ہر ہندوستانی کا خیرمقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فراخدل ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹرا کے عوام اور ملک کے دیگر علاقوں کے عوام ہندی داں افراد کا جو گجرات سے وابستہ رہے ہیں، خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے اظہارحیرت کیا کہ اس تنازعہ پر وزیراعظم نریندرمودی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ صدر شمالی ہند ترقی پریشد شیام سنگھ ٹھاکر نے دعویٰ کیا کہ 60 ہزار سے زیادہ ہندی داں تارکین وطن مزدور تاحال ریاست سے فرار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے قبل ازیں ریاست سے واپس ہوجانے کا فیصلہ کرلیا ہے بسوں اور ٹرینوں میں سوار ہورہے ہیں۔ یوپی ۔ بہار یکتامنچ نے وارناسی کے علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے جن میں ہندی داں تارکین وطن کارکنوں پر گجرات میں حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ تنظیم نے ایک جلوس بھی نکالا اور حملوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ وزیراعظم مودی وارناسی کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہیں۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب ممتابنرجی ، کجریوال اور نتیش کمار نے حملوں کی مذمت کی۔