کئی جگہ تشدد کے واقعات، ریپ جیسے جرائم ۔ عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے چیف منسٹر روپانی کی اپیل
احمدآباد 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی نے آج عوام سے تشدد میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی جبکہ ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ریپ کے واقعہ کے بعد سلسلہ وار حملوں کے پیش نظر گزشتہ ایک ہفتے میں ریاست سے ہندی بولننے والے زائداز 20 ہزار افراد اپنی آبائی ریاستوں کو بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ روپانی نے ادعا کیاکہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ریاستی وزیرداخلہ پردیپ سنہہ جڈیجہ کا کہنا ہے کہ غیر ریاستی افراد کی سکیورٹی کے لئے صنعتی علاقوں میں اضافی فورسیس متعین کی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا تھا کہ 28 ستمبر کو ضلع سابرکنٹھ میں ایک 14 ماہ کی لڑکی کی مبینہ عصمت ریزی کے بعد سے 6 اضلاع جن میں زیادہ تر شمالی گجرات کے ہیں، وہاں پر ہندی داں افراد کے خلاف تشدد کے مختلف واقعات پیش آئے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ تشدد کے سلسلے میں زائداز 400 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ یہ تشدد ریپ کیس میں بہار کے تارک وطن ورکر کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔ صدر اتر بھارتیہ وکاس پریشد مہیش سنگھ کشوا نے دعویٰ کیا ہے کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے زائداز 20 ہزار افراد موجودہ صورتحال کے سبب گجرات سے جاچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِن ریاستوں کے 20 ہزار سے زیادہ تارکین وطن خوف کے سبب فراری پر مجبور ہوئے کیوں کہ ہندی بولنے والے لوگوں کو ریاست کے مختلف حصوں میں حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی ایک شخص کی غلط کاریوں کے لئے تمام غیر گجراتی لوگوں کو خاطیوں کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ روپانی نے راجکوٹ میں کہاکہ صورتحال پر پولیس نے قابو پالیا ہے۔ پولیس کی انتھک کوششوں کے سبب صورتحال قابو میں آئی ہے اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ہم لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے پابند عہد ہیں اور عوام کوئی بھی گڑبڑ کی صورت میں پولیس کو طلب کرسکتے ہیں۔ ہم اُنھیں سکیورٹی فراہم کریں گے۔ مملکتی وزیرداخلہ جڈیجہ نے پیر کو گاندھی نگر میں پریس کانفرنس میں کہاکہ مرکز کو گجرات حکومت کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کے لئے کئے گئے اقدامات سے واقف کروایا جاچکا ہے۔ 431 افراد گرفتار کئے گئے اور ہندی داں لوگوں پر حملوں کے سلسلے میں 56 ایف آئی آر درج رجسٹر کئے جاچکے ہیں۔