گاندھی کے ہندوستان یا گوڈسے کے ہندوستان میں ایک کا انتخاب کرنا ہوگا

ایک طرف محبت تو دوسری طرف نفرت ‘ہمارے دو وزرائے اعظم شہید ہوئے ‘ ہم کسی کے آگے جھکے نہیں: راہول گاندھی
نئی دہلی ۔ 11مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ایک دن بعد آج یہاں اپنی پارٹی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے کہا کہ اب گاندھی جی کے ہندوستان یا گوڈسے کے ہندوستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا جہاں ایک طرف محبت ہے تو دوسری طرف نفرت ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو رافیل ، بیروزگاری ، رشوت ، مختلف مسائل پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ’’ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ آپ گاندھی کا ہندوستان چاہتے ہیں یا پھر گوڈسے کا ہندوستان چاہتے ہیں ۔ ایک طرف محبت ہے تو دوسری طرف ڈر و خوف اور نفرت ہے ۔ گاندھی جی نڈر و بے باک تھے کئی سال تک جیل میں رہے لیکن برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں بھی پیار ومحبت کی میٹھی بولی بولا کرتے تھے جبکہ ( ویر)ساورکر، برطانوی حکمرانوں کے نام معافی نامہ لکھتے ہوئے جیل سے رہائی کی درخواستیں کیا کرتے تھے ‘‘۔ قومی سلامتی کے مسئلہ پر برسر اقتدار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ سی آر پی ایف کے 40 جوان مارے گئے ۔ یہ حملہ جئیش محمد دہشت گرد تنظیم نے کیا تھا اور اس کے سربراہ مسعود اظہر کو جیل سے بی جے پی نے ہی رہا کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ 56 انچ کے سینے کی بات کرتے ہیں اور آپ کو یاد ہوگا کہ سابقہ حکومت میں موجودہ قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول بھی ایک طیارہ میں مسعود اظہر کے ساتھ گئے تھے اور اسے قندھار حوالے کیا گیا تھا ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہمارے دو وزرائے اعظم شہید کردئے گئے ۔ ہم کسی کے آگے جھکے نہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ مودی اگرچہ ’میک ان انڈیا کی باتیں تو بہت کیا کرتے ہیںلیکن ان کے شرٹس ، جوتے اور وہ فون جن سے سلفی لیا کرتے ہیں سب کے سب ’’ میڈ ان چائینا‘‘ ( چینی ساختہ ) ہیں ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پلوامہ دہشت گرد حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کو ہلاک کرنے والی تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بی جے پی نے رہا کیا تھا ۔ ہمارے دو وزرائے اعظم شہید کئے گئے لیکن ہم کسی کے آگے نہیں جھکے تھے ۔ راہول گاندھی نے دہلی میں تمام سات حلقوں میں کانگریس کی کامیابی کیلئے سخت محنت سے کام کریں ۔ راہول گاندھی نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی کانگریس ‘ راجیو گاندھی ‘ جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے تعلق سے تو بات کرتے ہیں لیکن کبھی انہوں نے انیل امبانی کے تعلق سے بات چیت نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ ’’ اچھے دن آئیں گے ‘‘ ۔ اب صرف چوکیدار کہنا کافی ہے اور لوگ خود ہی چور ہے کہنے لگتے ہیں ۔ راہول نے کہا کہ حکومت کسانوں سے جھوٹی ہمدردی کر رہی ہے ۔ مدھیہ پردیش ‘ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کی جانب سے اندرون دو یوم زرعی قرض معافی کے بعد بحالت مجبوری مودی حکومت نے کسانوں کیلئے مدد کا اعلان کیا ہے اور وہ بھی صرف 3.5 روپئے یومیہ ہیں۔