لکھنؤ۔/19مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس ارکان اسمبلی نے آج مہاتما گاندھی کے خلاف VHP لیڈر سادھوی پراچی کے نازیبا ریمارکس پر اسمبلی میں تحریک سرزنش پیش کرنے کی جو کوشش کی جبکہ سادھوی نے گاندھی جی کو برطانیہ کا ایجنٹ قرار دیا تھا، اس ریمارک پر حکمران سماجوادی پارٹی نے بھی اعتراض کیا ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور محمد اعظم خاں نے اسمبلی میں کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور جن لوگوں کی سماج میں کوئی شناخت نہیں ہے وہ اس طرح کے ریمارکس کررہے ہیں۔ لیکن ایک مخصوص سیاسی جماعت ( بی جے پی) کو سادھوؤں اور مہاتماؤں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کانگریس ارکان نے آج جب تحریک ملامت پیش کرنے کی کوشش کی تو ریاستی وزیر محمد اعظم خاں نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس کرنا آجکل ایک فیشن بن گیا ہے اور ان پر قابو پانے کیلئے قانونی کارروائی ناگزیر ہوگئی ہے۔ غازی آباد میں متنازعہ وشوا ہندو پریشد لیڈر سادھوی پراچی نے یہ کہتے ہوئے ایک اور تنازعہ چھیڑ دیا کہ گاندھی جی برطانیہ کے ایجنٹ تھے اور ملک کی آزادی میں ان کا رول ( تعاون) قابل فراموش ہے۔
قبل ازیں صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا مارکنڈے کاٹجو نے بھی گاندھی جی کے خلاف اس طرح کے الزامات عائد کئے تھے۔ اسپیکر اسمبلی ماتا پرساد پانڈے نے کانگریس ارکان کے مطالبہ کو مسترد کردیا اور ان سے کہا کہ پیشگی نوٹس دیں۔ تاہم کانگریس ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر اپنا مطالبہ قبول کرنے کا اصرار کیا۔ جس پر ریاستی وزیر محمد اعظم خاں نے اس مسئلہ پر بیان دیا۔ قبل ازیں پردیپ ماتھر اور انوگر نارائن سنگھ (کانگریس) نے تحریک سرزنش پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سماجی تانہ بانہ پر ضرب کاری کی کوشش کی جارہی ہے اور سادھوی پراچی ایک اور مارکنڈے کاٹجو بننے کی کوشش میں ہیں اور انہیں گرفتار کرکے ان کے بیانات پر امتناع عائد کردیا جائے۔ کانگریس ارکان دراصل گاندھی جی اور سبھاش چندر بوس کے خلاف سابق سپریم کورٹ جج کاٹجو کے ریمارکس کا حوالہ دے رہے تھے جبکہ اسمبلی میں جمعہ کے دن اتفاق آراء سے کاٹجو کے خلاف ایک تحریک ملامت منظور کرائی گئی۔ سادھوی پراچی نے کہا تھا کہ بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، رام پرساد بسمل اور سبھاش چندر بوس کی قربانیوں سے ہندوستان کو آزادی نصیب ہوئی ہے۔
گاندھی جی کے خلاف سادھوی پراچی کے ریمارکس
اتر پردیش اسمبلی میں تحریک سرزنش پیش کرنے کانگریس کی کوشش ناکام