نئی دہلی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں ارکان نے آج سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر سابق سپریم کورٹ جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے ریمارکس کی مذمت کی اور صدرنشین حامد انصاری کی جانب سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ جسٹس کاٹجو نے گاندھی جی کو برطانوی ایجنٹ اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کو جاپانی قرار دیا تھا۔ وقفہ صفر کے دوران سرکاری بنچس اور اپوزیشن ارکان نے متحدہ طور پر جسٹس کاٹجو کے بلاگ میں کئے گئے ریمارکس کی مذمت کی۔ سارے ایوان نے متفقہ طور پر ندائی ووٹ سے قرارداد منظور کی۔ حامد انصاری نے قرارداد پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا کہ سارا ایوان سابق جج سپریم کورٹ جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے بابائے قوم گاندھی جی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے خلاف جنھوں نے ملک کی آزادی کے لئے انڈین نیشنل آرمی کی قیادت کی تھی، ریمارکس کی متفقہ طور پر مذمت کرتا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے کاٹجو کے بیان کی مذمت کے لئے قرارداد پیش کرنے سے اتفاق کیا تھا لیکن یہ فیصلہ کیا گیا کہ قرارداد کرسی صدارت سے پیش ہونا چاہئے۔ قائد ایوان ارون جیٹلی نے کہاکہ وہ ارکان کی برہمی سے اتفاق اور ان ریمارکس کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گاندھی جی حالیہ دور میں ہندوستان کی عظیم شخصیت تھے۔ اُنھوں نے جدوجہد آزادی میں بابائے قوم کے رول کو غیرمعمولی قرار دیا اور کہاکہ وہ نمایاں حیثیت کی حامل شخصیت تھے۔ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہاکہ ان ریمارکس سے موجودہ نظام بھی آشکار ہوتا ہے۔ جہاں ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ موجودہ نظام کی کمزوریوں کا اظہار ہے اور ہم اسے تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آج دن میں ایوان کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی، نریش اگروال (سماج وادی پارٹی) نے یہ مسئلہ اُٹھایا اور دیگر ارکان بلا لحاظ سیاسی وابستگی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور ان ریمارکس کی مذمت کی۔ اگروال نے کاٹجو کو بحیثیت سابق سپریم کورٹ جج دی جانے والی تمام سرکاری سہولیات سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایس ایس رائے (ٹی ایم سی) نے کہاکہ قرارداد میں کاٹجو کے اس بیان کی بھی مذمت پر زور دیا گیا جس میں اُنھوں نے کہاکہ نیتاجی جاپان کے ایجنٹ تھے۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد (کانگریس) نے کہاکہ ساری دنیا کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ شرد یادو (جنتادل یو) نے کاٹجو کی مذمت میں قرارداد کا مطالبہ کیا۔ سیتارام یچوری (سی پی آئی ایم) نے کہاکہ اگر حکومت کاٹجو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد پیش کرنا نہیں چاہتی تو پھر کرسیٔ صدارت کو قرارداد پیش کرنی چاہئے۔ کرن سنگھ (کانگریس) نے سابق سپریم کورٹ جج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو حال ہی میں صدرنشین پریس کونسل آف انڈیا کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہاکہ کاٹجو کا بیان انتہائی قابل مذمت ہے اور اگر حکومت مؤثر قرارداد پیش کرتی ہے تو اُنھیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ سیتارام یچوری کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہاکہ یہ قرارداد کرسی صدارت سے پیش ہونی چاہئے۔ کورین نے کہاکہ قرارداد کا مسودہ تیار کرنے کے بعد کرسی صدارت سے اِسے پڑھا جائے گا۔