گاؤکشی پر ماڈل بل : پی ایم او کی وزارت قانون سے رائے طلبی

نئی دہلی۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) نے اس مسئلہ پر وزارتِ قانون سے رائے طلب کی ہے کہ آیا بشمول گجرات بعض ریاستوں کی طرف سے انسدادِ گاؤکشی پر وضع کردہ قوانین کو دیگر ریاستوں میں بھی مرکز گشت کرواسکتا ہے تاکہ وہاں بھی ایسے ہی قوانین کے نفاذ کے لئے ایک مثالی بل کے طور پر غور کیا جاسکے۔ پی ایم او نے وزارت قانون کو روانہ کردہ مکتوب میں گاؤ اور دودھ دینے والے دیگر مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کیلئے دستور میں فراہم کردہ ایسی ہی دفعات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ دستور کی دفعہ 48 میں کہا گیا ہے کہ ’’مملکت کو چاہئے کہ وہ مویشیوں کی افزائش اور زراعت کو عصری اور سائنسی خطوط پر منظم کرے بالخصوص (مویشیوں کی) نسلوں کے تحفظ اور بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ گائے بچھڑوں کے علاوہ دودھ دینے والے اور سوکھے مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی جائے۔ وزیراعظم کے دفتر کے اس مکتوب نے کہا ہے کہ 2005ء میں سپریم کورٹ نے گاؤکشی پر امتناع کئے گئے حکومت گجرات کی طرف سے وضع کردہ قانون کے جواز کو جائز قرار دیا تھا۔