کانگریس کے ساتھ انتخابی مفاہمت اور نشستوں کے تعین پر تذبذب کا شکار
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس اور کانگریس میں انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر جاری تعطل کے سبب ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ انتخابی حلقوں کے تعین کے مسئلہ پر اُلجھن کا شکار ہیں۔ انہوں نے آئندہ عام انتخابات میں بیک وقت دو حلقوں سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم حلقوں کے تعین کے بارے میں ابھی منظر واضح نہ ہوسکا۔ چندر شیکھر راؤ بیک وقت لوک سبھا اور اسمبلی کیلئے مقابلہ کریں گے اور نتائج کے بعد اس وقت کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر کسی ایک حلقہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ کے سی آر نے حلقہ لوک سبھا میدک اور اسی حلقہ میں شامل اسمبلی حلقہ گجویل سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔حلقہ اسمبلی گجویل کی نمائندگی فی الوقت کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی نرسا ریڈی کررہے ہیں۔ چندرشیکھر راؤ نے ضلع کے پارٹی قائدین کو اپنے اس فیصلہ سے واقف کرایا اور کیڈر کو متحرک ہونے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم کانگریس پارٹی سے مفاہمت کے مسئلہ پر جاری کشیدہ صورتحال کے سبب چندر شیکھر راؤ بتایا جاتا ہے کہ اب میدک کے ساتھ ساتھ عادل آباد لوک سبھا نشست پر توجہ مرکوز کرچکے ہیں۔ کانگریس نے ٹی آر ایس کی باغی رکن پارلیمنٹ وجئے شانتی کو دوبارہ میدک سے امیدوار بنانے کا اشارہ دیا ہے جو حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکی ہیں۔ میدک لوک سبھا نشست کے مسئلہ پر اختلاف کے بعد ہی وجئے شانتی نے ٹی آر ایس سے دوری اختیار کرلی۔ ضلع میدک میں اگرچہ ٹی آر ایس کو صرف ایک اسمبلی حلقہ پر نمائندگی حاصل ہے تاہم کے سی آر کو یقین ہے کہ تلنگانہ ریاست کے حصول کے بعد وہ اس حلقہ سے باآسانی کامیابی حاصل کرلیں گے۔
فی الوقت وہ ضلع محبوب نگر کی لوک سبھا میں نمائندگی کرتے ہیں۔ انتخابی مفاہمت کیلئے ٹی آر ایس کو راضی کرنے کی حکمت عملی کے طور پر ہی کانگریس ہائی کمان نے وجئے شانتی کو میدک سے میدان میں اُتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر وجئے شانتی کانگریس کے ٹکٹ پر کے سی آر کے مخالف میدان میں آئیں تو مقابلہ دلچسپ اور سخت ہوجائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر کے قریبی حلقے انہیں اس طرح کی صورت میں عادل آباد سے مقابلہ کا مشورہ دے رہے ہیں۔ میدک کے مقابلہ عادل آباد میں ٹی آر ایس کا موقف زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم ارکان اسمبلی نے حال ہی میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ مجالس مقامی انتخابات کے بعد انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر منظر واضح ہوجائے گا جس کے بعد ہی کے سی آر اپنے حلقوں کو قطعیت دیں گے۔ انتخابی نتائج کے بعد اگر ٹی آر ایس تلنگانہ میں تشکیل حکومت کے موقف میں ہو تو کے سی آر لوک سبھا کی نشست سے مستعفی ہوجائیں گے اور اگر صورتحال مختلف ہو تو وہ قومی سطح پر اہم رول ادا کرنے کیلئے اسمبلی نشست سے استعفی دے دینگے۔انہوں نے تلنگانہ نان گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن کے صدر دیوی پرساد سے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات کے بعد وہ جو بھی نشست چھوڑیں گے اس پر دیوی پرساد کو ٹی آر ایس اپنا ٹکٹ دے گی۔ اس سلسلہ میں کے سی آر نے این جی اوز قائدین کے ساتھ ملاقات میں اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔