وی ایچ پی کی شکایت پر الیکشن کمیشن کی نوٹس ، جمعہ تک جواب دینے کی ہدایت
نئی دہلی۔/10 اپریل، ( پی ٹی آئی ) الیکشن کمیشن نے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے گزشتہ ماہ کریم نگر کے ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کے دوران ہندوؤں کے خلاف مبینہ اہانت آمیز ریمارکس کرنے کا بادی النظر میں خاطی پاتے ہوئے وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے۔ انہیں 12 اپریل کی شام تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جس میں ناکامی کی صورت میں مزید کسی جواز کے بغیر کارروائی کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ وشوا ہندو پریشد کے ریاستی صدر ایم راما راجو نے یہ شکایت کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ نے کریم نگر میں 17 مارچ کو ایک ریلی سے خطاب کے دوران ہندوؤں کے خلاف ریمارکس کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کمیشن نے تلگو زبان میں ان کے ریمارکس کا حوالہ دیا ہے لیکن اس کا انگریزی ترجمہ نہیں دیا۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے منگل کو جاری کردہ نوٹس میں کہا کہ ’’ … کمیشن بادی النظر میں اس نظریہ کا حامل ہے کہ متذکرہ بیان کے ذریعہ جوسماجی و مذہبی طبقات کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا کرسکتا ہے ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی درہم برہم کرسکتا ہے اس میں فرقہ وارانہ احساسات بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آپ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ الیکشن کمیشن نے کے چندر شیکھر راؤ کو ضابطہ اخلاق کے قواعد اور قانون کے بارے میں یاد دلایا جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی جماعت یا امیدوار کو ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہونا چاہیئے جس سے اختلافات میں شدت پیدا ہوسکتے ہیں۔ باہمی نفرت پھیل سکتی ہے۔ مختلف طبقات اور مذاہب، ذات پات اور لسانی گروپوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔علاوہ ازیں ووٹوں کے حصول کیلئے فرقہ وارانہ جذبات و احساسات کو بھڑکانے سے منع کیا گیا ہے۔ریاست میں سات مرحلوں پر مبنی لوک سبھا انتخابات کے شیڈول کا اعلان کئے جانے کے بعد 10 مارچ سے انتخابی ضابطہ اخلاق