ٹی آر ایس کی مقبولیت سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ، کے پربھاکر ایم ایل سی کا ادعا
حیدرآباد۔ 19 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے عمل کی جارہی اسکیمات سے عوام خوش ہیں لیکن اپوزیشن غیر ضروری الزامات عائد کر رہی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ عوام نے ٹی آر ایس حکومت کی بڑھتی مقبولیت سے اپوزیشن جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے کے سی آر نے مختلف فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کیا جس سے تلنگانہ عوام مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر عوامی مسائل اور خاص طور پر غریب خاندانوں کے مسائل سے واقفیت کیلئے مختلف اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ورنگل کا 4 روزہ دورہ کیا۔ کے پربھاکر نے کہا کہ ورنگل کے دورہ کو اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اسے انتخابات کا حصہ قرار دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر اضلاع کے دورہ کے موقع پر سلم علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کل محبوب نگر ضلع کا دورہ کیا اور غریب خاندانوں کیلئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا۔ ٹی آر ایس رکن کونسل نے کہا کہ 14 سالہ طویل جدوجہد کے بعد تلنگانہ ریاست کا حصول سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ تلنگانہ کی تعمیر نو اور ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واٹر گرڈ اور دیگر اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ پینے کے پانی اور زرعی شعبہ کیلئے پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ وہ تلنگانہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں ناانصافی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد برقی ، پانی اور دیگر شعبوں میں تلنگانہ کو یہ حصہ داری دی گئی، آندھراپردیش حکومت اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت پر لوکیش کی تنقیدوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند کو کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ وہ خود کو آندھراپردیش اور تلنگانہ کے شہری کے بجائے حیدرآباد کا شہری قرار دے رہے ہیں۔ شاید وہ جانتے نہیں کہ حیدرآباد دراصل تلنگانہ ریاست کا حصہ ہے۔