ویریا اور جگا ریڈی پر نظریں، کانگریس کو اسمبلی میں مسلمہ اپوزیشن کے موقف سے محروم کرنے کی سازش
حیدرآباد ۔ 25۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں کانگریس پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی کوششیں توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوسکی۔ کونسل میں اگرچہ موجودہ کانگریسی ارکان کی میعاد ختم ہوگئی لیکن حال ہی میں گریجویٹ اور اساتذہ کے زمرہ میں کونسل کی نشستوں کیلئے ہوئے انتخابات میں کانگریس کے سینئر قائد ٹی جیون ریڈی کو گریجویٹ زمرہ سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح کونسل میں کانگریس کی نمائندگی جیون ریڈی کی صورت میں برقرار رہے گی۔ کے سی آر نے اسمبلی میں کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے آپریشن آکرش کے تحت ارکان اسمبلی کو انحراف کی کامیاب ترغیب دی ۔ کئی سینئر اور کٹر سمجھے جانے والے کانگریسی ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 19 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی اور اسمبلی میں اسے مسلمہ اپوزیشن کا موقف حاصل ہوا۔ کانگریس کو اس موقف سے محروم کرنے کیلئے اچانک انحراف کا آغاز ہوگیا۔ مختلف مراحل میں 19 کے منجملہ 11 ارکان اسمبلی نے ٹی آر ایس میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے ۔ اسمبلی کے قواعد کے اعتبار سے منحرف ارکان اسمبلی کو اسمبلی کی رکنیت بچانے کے لئے گروپ تشکیل دینا ہوگا جس میں کم سے کم 13 ارکان شامل ہونا چاہئے ۔ 13 ارکان گروپ کی شکل اختیار کرتے ہوئے کانگریس لیجسلیچر پارٹی ہونے کا دعویٰ پیش کرسکتے ہیں اور اسپیکر انہیں ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن کے سی آر کو 13 ارکان کا گروپ تشکیل دینے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے ۔ انہیں مزید دو ارکان کی ضرورت ہے لیکن موجودہ 8 ارکان اسمبلی میں سے ابھی تک کسی نے بھی ٹی آر ایس کی جانب سے دی گئی ترغیبات کو قبول نہیں کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بھدرچلم سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی پی ویریا پر مختلف گوشوں سے دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں۔ اگر وہ شمولیت اختیار کرتے ہیں ، تب بھی مزید ایک رکن اسمبلی کی ضرورت پڑے گی ۔ ایسے میں ٹی آر ایس کو تانڈور کے رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی اور سنگا ریڈی کے رکن اسمبلی جگا ریڈی سے امید ہے کہ وہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد ٹی آر ایس میں شمولیت کیلئے راضی ہوجائیں گے۔ اس طرح منحرف ارکان کی تعداد بڑھ کر 14 ہوجائے گی اور وہ بآسانی علحدہ گروپ کا دعویٰ کرسکتے ہیں ۔ کانگریس نے منحرف 10 ارکان کے خلاف پہلے ہی اسپیکر اسمبلی سے شکایت کردی ہے اور انہیں انسداد انحراف قانون کے تحت رکنیت سے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی کو دستور اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہوگا۔ تاہم ان پر برسر اقتدار پارٹی کا دباؤ رہے گا کہ وہ منحرف ارکان کے گروپ کی تشکیل تک کوئی کارروائی نہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کو دو ارکان اسمبلی کی تائید کے حصول میں کافی مشقت ہورہی ہے ۔ موجودہ کانگریسی ارکان انحراف کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے لوک سبھا نتائج کے بعد اس معاملہ کی یکسوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ نتائج کے بعد شخصی طور پر اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے دو ارکان اسمبلی کو انحراف کیلئے راضی کرسکتے ہیں۔ 13 ارکان اسمبلی کے انحراف کے بعد کانگریس کے پاس صرف 6 ارکان باقی رہیں گے اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے موقف سے محروم ہوجائیں گے ۔