کانگریس ہائی کمان ، اسمبلی سیشن کے بعد کسی موثر قائد کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرسکتی ہے
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( این ایس ایس): کانگریس ہائی کمان ریاست تلنگانہ میں پارٹی میں نئی جان ڈالنے اور اسے از سر نو متحرک کرنے کے اس کے عمل کے حصہ کے طور پر اپوزیشن قائد کی حیثیت سے کے جانا ریڈی کو تبدیل کرسکتی ہے اور ان کی جگہ کسی مضبوط قائد کو مقرر کرسکتی ہے جو ریاستی اسمبلی میں حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی سے موثر انداز میں نمٹ سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی جس قدر جلد ممکن ہو ہوسکتی ہے ۔ تاہم پارٹی کے سینئیر قائد کا احساس ہے کہ جانا ریڈی کو کم از کم اسمبلی کے بجٹ سیشن کی تکمیل تک تبدیل نہیں کیا جائے گا ۔ چونکہ کانگریس ہائی کمان نے ریاست تلنگانہ میں پارٹی کو از سر نو متحرک کرنے کا عمل شروع کردیا ہے اور اس سلسلہ میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے موجودہ صدر کو تبدیل کر کے اتم کمار ریڈی کو صدر مقرر کیا ہے ۔ اس طرح ریاستی اسمبلی میں قائد اپوزیشن کی حیثیت سے جانا ریڈی کی تبدیلی بھی ضروری دکھائی دیتی ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کانگریس کے سینئیر قائدین بشمول ارکان مقننہ ، اسمبلی کے گذشتہ سیشن کے دوران حکمران ٹی آر ایس پارٹی سے نمٹنے کے معاملہ میں جانا ریڈی کی کارکردگی کے انداز سے نہ صرف مایوس ہوئے بلکہ یہ محسوس کیا کہ وقت پر ان کا ساتھ نہیں دیا گیا ۔ کانگریس قائدین گذشتہ اسمبلی سیشن کے دوران عوام کے مختلف مسائل پر ٹی آر ایس حکومت پر شکنجہ کسنے میں قائد اپوزیشن کی حیثیت سے جانا ریڈی کے نرم رویہ پر حیرت زدہ ہوگئے ۔ اس تناظر میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کانگریس کے ارکان اسمبلی جیسے ٹی جیون ریڈی ، بھٹی وکرمارک ، ڈی کے ارونا ، گیتا ریڈی اور دوسروں نے کامیابی کے ساتھ حکومت کو زچ کیا اور کسانوں کی خود کشی اور کسانوں کے قرض کی معافی وغیرہ جیسے مسائل پر اسمبلی میں کارروائی کو بھی چلنے سے روک دیا ۔ یہ جانا ریڈی کی دو دن کی غیر موجودگی کے دوران ہوا جب کہ وہ سیشن میں حاضر نہیں ہوسکے تھے ۔ چونکہ اب کئی مسائل سامنے آئے ہیں جیسے چیسٹ ہاسپٹل کی منتقلی ، سکریٹریٹ کو دوسرے مقام پر قائم کرنا ، سرکاری اراضیات کا ہراج وغیرہ اس لیے کانگریس قائدین کا یہ احساس ہے کہ حکمران ٹی آر ایس پر اسمبلی میں شکنجہ کسنے کے لیے ایک اور موقع آیا ہے اس لیے وہ یہ محسوس کرتے ہیں ۔ جانا ریڈی کو تبدیل کر کے ایک طاقتور قائد کو قائد اپوزیشن مقرر کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ حکومت پر موثر انداز میں شکنجہ کس سکے ۔ چونکہ اسمبلی سیشن کا 7 مارچ سے آغاز ہورہا ہے اس لیے جانا ریڈی کو تبدیل کرنے کا سوال اب نہیں ہے ۔ اس طرح جوں کا توں موقف برقرار رہے گا اور یہ تبدیلی اسمبلی سیشن کے ممکن بعد ہوسکتی ہے ۔ پارٹی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آئی سی سی کی باگ ڈور عنقریب راہول گاندھی سنبھالنے پر یہ تبدیلی ہو کر رہے گی ۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ جانا ریڈی ، جو نئی دہلی میں ہیں اور تلنگانہ کے دیگر کانگریس قائدین کے ہمراہ سونیا گاندھی کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ایسے موڑ پر جب کہ اسمبلی سیشن شروع ہونے والا ہے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی میں ’ چینج آف گارڈ ‘ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔۔