کے بی آر پارک فائرنگ واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا

حیدرآباد۔19۔نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جوبلی ہلز میں واقع کے بی آر پارک میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ پر اسمبلی میں بیان دیا۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ آج صبح پیش آئے اس واقعہ کے سلسلہ میں حکومت بیان دے۔ چیف منسٹر نے تفصیلات پر مشتمل تحریری بیان پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا ہے کہ ارابندو فارما کے نائب صدر کے نتیانند ریڈی پر نامعلوم شخص نے فائرنگ کی جو ان سے رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق نتیانند ریڈی کے بی آر پارک میں صبح تقریباً 7.15 بجے مارننگ واک کی تکمیل کے بعد کار میں سوار ہوئے۔ کار کے دوسرے حصہ سے اچانک حملہ آور کار میں داخل ہوا اور اے کے 47 رائفل سے دھمکاتے ہوئے رقم کا مطالبہ کیا ۔ نتیانند ریڈی نے مزاحمت کی کوشش کی اور دونوں کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ اسی دوران اے کے 47 سے فائرنگ ہوگئی اور کار کے آئینہ کو توڑتے ہوئے گولیاں ہوا میں نکل گئی۔ وہاں قریب میں موجود نتیانند ریڈی کے چھوٹے بھائی پرساد ریڈی فوری مدد کیلئے پہنچے اور حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کی ۔ حملہ آور نے پرساد ریڈی کے ہاتھ کو کتر کر زخمی کردیا اور کار میں اے کے 47 رائفل چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی۔ اس فائرنگ میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعات 307,363 اور آرمس ایکٹ کی دفعات 25 اور 27 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات میں اس بات کا پتہ چلا کہ حملہ میں استعمال کی گئی رائفل گرے ہانڈس فورس کی ہے جو 26 ڈسمبر 2013 ء کو غائب ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں 3 فروری 2014 ء کو نارسنگی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ قبل ازیں اپوزیشن ارکان نے جب بیان دینے کا مطالبہ کیا تو چیف منسٹر نے کہا کہ وہ پارک میں پیش آئے واقعہ پر ضرور بیان دیں گے ۔ کسی رکن نے کہا کہ برہمانند ریڈی پارک میں یہ واقعہ پیش آیا ہے تو چیف منسٹر نے پارک کا نام لینے سے انکار کردیا ۔ واضح رہے کہ کاسو برہمانند ریڈی کا تعلق سیما آندھرا سے ہے جن کے نام سے اس پارک کو موسوم کیا گیا۔