برکلے ( امریکہ ) ۔ 9 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) دو غیرمسلح سیاہ فام افراد کی موت کیلئے سفید فام پولیس اہلکاروں کو ملوث نہ کئے جانے کے جیوری کے فیصلے کے خلاف سینکڑوں افراد نے آج تیسرے روز بھی اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جہاں انھوں نے ایک اہم شاہراہ پر ٹرافک کو درہم برہم کرنے کے علاوہ ٹرین روکو احتجاج بھی کیا۔ برکلے کے انٹراسٹیٹ 80 مقام پر دونوں جانب احتجاجیوں نے ٹرافک کو روک دیا جبکہ ایک دوسرا گروپ وہاں سے قریب ٹرین کی پٹریوں پر بیٹھ گیا اور ٹرینوں کی آمد ورفت روک دی جس کی وجہ سے اسٹراک ایکسپریس اپنے آگے کا سفر جاری نہیں رکھ سکی۔ برکلے میں پیر کے رو ز سے احتجاجیوں نے پرامن مارچ کا سلسلہ شروع کیا تھا جہاں وہ حکومت مخالف نعرے لگارہے تھے لیکن اُسی وقت وہاں موجود سنگین حالات سے نمٹنے والے پولیس کے خصوصی تعینات دستوں نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا لیکن احتجاجی بے ایریا ریاپڈ ٹرانزیشن ٹرین اسٹیشن کے قریب پہنچ گئے اور وہاں جاکر انھوں نے پٹریوں پر دھرنا دیا
اور کچھ لوگ اسٹیٹ کے روبرو دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔ رات ہوتے ہوتے احتجاجی دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور انھوں نے مسافرو ںکو بھی پریشان کرنا شروع کردیا۔ اتوار کی شب کو بھی برکلے کے ڈاؤن ٹاؤن میں دوکانداروں نے آج صبح اپنی دوکانات کے سامنے بکھرے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں کو سمیٹنا شروع کیا جو احتجاج کے پرتشدد ہونے کے بعد اُن کی دوکانات لوٹے جانے کی صورت میں سامنے آیا ۔ حالانکہ ملک کے دیگر علاقوں میں احتجاجی پرسکون ہوگئے ہیں اور اپنے مکانات واپس لوٹ گئے ہیں لیکن برکلے اور اوک لینڈ میں احتجاجی ہنوز سرگرم ہیں جس کی وجہ یہاں کی وہ تاریخ ہے جو احتجاج کے معاملہ میں 1960 ء سے چلی آرہی ہے ۔ یہاں جب بھی احتجاج ہوتا ہے وہ طویل ہی ہوتا ہے ۔ دریں اثناء برکلے کے میئر ٹام بیٹسن نے کہا کہ احتجاجی ملک گیر پیمانے پر پولیس میں اصلاحات متعارف کئے جانے کے خواہاں ہیں ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ماہرین نے بھی گارنر اور براؤن کے واقعات کے تناظر میں امریکہ میں پولیس کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔