اسٹاک ہوم ۔ 16ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی جو بچہ مزدوری کے خلاف اور بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی زندگی وقف کرچکے ہیں اور اُن ہی خدمات کے اعتراف میں اُنھیں نوبل انعام دیا گیا ہے ، نوبل میوزیم میں رکھی گئی ایک کرسی کے زیریں حصہ میں انھوں نے تحریر کیا ہے کہ ’’اُن کے لئے وہ کرسی آج بھی خالی ہے اور اُن لاکھوں کروڑوں بچوں کی منتظر ہے جنھیں اُن کے اپنوں نے ٹھکرادیا ‘‘ اور اسطرح انھوں نے اُس کرسی کے زیریں حصہ پر چھوٹے سے پیغام کے ساتھ اپنی دستخط کے ساتھ نوبل کی روایت کو قائم و دائم رکھا ہے ۔ یاد رہے کہ نوبل چیئرس نہ صرف میوزیم کی نادر شئے کہلاتی ہے بلکہ مہمانوں کیلئے مخصوص کتاب کا کام بھی کرتی ہے جہاں میوزیم کا دورہ کرنے کرنے والے اُن تمام نوبل انعام یافتگان کی دستخطیں موجود ہیں۔ نوبل میوزیم کے کیوریٹر ٹوبیاس ڈیجسیل نے یہ بات بتائی ۔ 12 ڈسمبر کو کیلاش ستیارتھی نے میوزیم کا دورہ کیا تھا ۔ پاکستان کی ملالہ یوسف زئی نے حالانکہ میوزیم کاد ورہ نہیں کیا ہے لیکن انھوں نے اپنا ایک زیراستعمال ڈریس جو انھوں نے طالبان کے حملہ کے وقت زیب تن کر رکھا تھا اور جس پر خون کے کچھ دھبے بھی ہیں ، میوزیم کو بطور عطیہ دیا تھا جو وہاں زیرنمائش ہے۔ دستخط کرنے والے دیگر اہم ترین شخصیات میں صدر امریکہ بارک اوباما ، تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ ، ماہر معاشیات جان ناش اور ڈی این اے دریافت کرنے والے جیمس واٹسن کے نام قابل ذکر ہیں۔