استنبول ۔ 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں 24 جون کو منعقد شدنی صدارتی و پارلیمانی انتخابات کے ذریعہ صدر رجب طیب اردغان نے یقینا ایک جوا کھیلا ہے جہاں انہوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ ملک کے اقتدار پر ان کی گرفت باقی رہتی ہے یا نہیں اور وہ ایک فاتح بنتے ہیں یا نہیں۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہیکہ انتخابات کا اعلان موجودہ حکومت کی میعاد کی تکمیل سے ایک سال قبل کرنے سے فتح کی طمانیت نہیں دی جاسکتی۔ ہوسکتا ہیکہ نتائج اتنے حوصلہ افزاء نہ ہوں جتنی اردغان نے توقع کر رکھی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہیکہ پہلی بار ترکی میں اپوزیشن کافی متحد نظر آرہی ہے جو سیکولر اقدار کے حامل (سیکولر سٹس)، قوم پرستوں (نیشنلٹس)، اسلام پسند (اسلامٹس) اور کردوں پر مشتمل ہے جنہوں نے اب ایک متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ دریں اثناء ملک کی معیشت جس کے بارے میں اردغان نے یہ دعویٰ کیا ہیکہ انہوں نے ملک کو خوشحالی کی جانب گامزن کیا ہے، حالیہ دنوں میں گراوٹ کا شکار نظر آرہی ہے۔