کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کیلئے لال سنگھ کی ریالی

سامبا(جموں و کشمیر) ۔ 17اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی لیڈر لال سنگھ جو کٹھوعہ ریپ اور قتل کیس کے سلسلے میں ریاستی کابینہ سے مستعفی ہوچکا ہے ، آج اُس نے اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کی تائید میں ایک ریالی کی قیادت کی اور اس مسئلہ کی یکسوئی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی سے مستعفی ہوجانے پر زور دیا ۔ لال سنگھ اور وزیرصنعتیں چندر پرکاش گنگا قبل ازیں ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل کے ملزمین کی حمایت میں منعقدہ ریالی میں اپنی شرکت پر 13 اپریل کو مستعفی ہوگئے تھے ۔ سابق وزیر جنگلات نے کہاکہ چیف منسٹر عوامی احساسات کو سمجھنے میں ناکام ہوئے اور اُنھوں نے ابھی تک اس سفاکانہ واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات نہیں چاہی ہے ، یہ اُن کی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔ اگر اُن میں دانشمندی اور سوجھ بوجھ ہے تو اُنھیں مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ لال سنگھ نے پی ڈی پی لیڈر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر امن کے مفاد میں دو وزراء اپنے عہدوں کی قربانی دے سکتے ہیں تو وہ جو اس طرح کا ماحول پیدا کرنے کیلئے واقعتاً ذمہ دار ہیں اُنھیں اپنے ضمیر کی آواز پر مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ لال سنگھ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کیلئے دباؤ ڈالیں گے ۔ ریاستی حکومت سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے کے تعلق سے پوچھنے پر لال سنگھ نے میڈیا کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ایسا ماحول پیدا کردیا گیا کہ اُنھیں مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا ۔