نئی دہلی 20 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں اپنی حلیف پی ڈی پی پر تنقید کرتے ہوئے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ کٹھوا میں دہشت گردوں کا حملہ ان افراد کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو جموں و کشمیر میں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے کا قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے مناسب اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس حملہ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر و سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر غلام نبی آؑزاد نے اس حملہ کو پاکستان کی جانب سے پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کیا
اور کہا کہ عسکریت پسندی اور امن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے جو جموں و کشمیر میں اودھمپور کے رکن پارلیمنٹ ہیں کہا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنے رویہ میں تبدیلی لانے سے انکار کرتا ہے ایسے میں وقت آگیا ہے کہ سرحد پار سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے مناسب موقف اختیار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوا کے منتخبہ نمائندے کی حیثیت سے دو اہم خیال ان کے ذہن میں آتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان نے اپنا راستہ بدلنے سے انکار کردیا ہے اور ایسے میں ہم کو اس مسئلہ پر مناسب موقف اختیار کرنا چاہئے ۔
دوسری اور بہت اہم بات یہ ہے کہ یہ حملہ ان افراد کی آنکھیں کھولنے اور واضح پیام دینے کیلئے کافی ہے جو سیاسی فائدے کیلئے مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے کا قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت دہشت گردانہ سرگرمیوں کے تعلق سے کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کر رہی ہے ۔ کٹھوا میں آج صبح دہشت گردوں کے ایک فدائین دستے نے پولیس اسٹیشن پر پولیس کے بھیس میں حملہ کردیا تھا جس کے نتیجہ میں تین سکیوریٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ گیارہ زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک ڈی ایس پی بھی شامل ہے ۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ‘ بی جے پی کی اقتدار میں حلیف ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ ریاست سے مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے والے قانون کو برخواست کیا جائے ۔ کٹھوا حملہ کے تعلق سے پی ڈی پی نے کہا کہ مفتی محمد سعید کی حکومت اس طرح کے مظالم کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب کبھی ہندوستان امن کیلئے پہل کرتا ہے پاکستان کی جانب سے ریاست میں تشدد کو ہوا دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیٹھ میں چھرا گھونپنا پاکستان کی عادت بن گئی ہے ۔