کوکٹ پلی میں تعمیر کردہ فلیٹس کی فروخت پر ہائیکورٹ کی پابندی

اجازت کے بغیر تعمیرات ، عدالت میں بلدیہ کے وکیل کا استدلال
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جون (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے گوپال نگر کوآپریٹیو ہاوز بلڈنگ سوسائٹی کی جانب سے حیدرآباد نگر کوکٹ پلی میں تعمیر کردہ سینکڑوں فلیٹس کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے علاوہ مزید تعمیری کاموں پر حکم التواء جاری کردیا۔ جسٹس اے وی سیشا سائی نے این سرینواس راؤ اور دوسروں کی درخواست کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ درخواست میں سوسائٹی کے مختلف بلاکس میں تقریباً 60,000 مربع فٹ کی تعمیر میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی مداخلت کو چیلنج کیا گیا تھا ۔ درخواست گزاروں کا ادعاء ہے کہ ان کی تعمیرات کو 2010 ء میں باقاعدہ بنایا گیا تھا اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن عمارتوں کو غیر قانونی طور پر منہدم کر رہی ہے۔ جی ایچ ایم سی کے وکیل سمپت پربھاکر ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری اراضی کے جھوٹے دستاویزات استعمال کرتے ہوئے کئی افراد نے زمین پر قبضہ کرلیا ہے اور جی ایچ ایم سی کی اجازت کے بغیر بڑی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ وکیل نے بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات کو بلدیہ کی جانب سے منہدم کیا گیا۔ جی ایچ ایم سی کے وکیل نے کہا کہ ریگولرائزیشن کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا جب عمارت 2015 ء سے قبل تعمیر کی گئی ہو لیکن یہاں درخواست گزار ابھی بھی عمارتوں کو تعمیر کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے ریگولرائزیشن سے متعلق پیش کیا جانے والا سرٹیفکٹس نقلی ہے۔ پربھاکر ریڈی نے کہا کہ درخواست گزاروں نے اراضی کے غلط سروے نمبرات بتاتے ہوئے عدالت کو گمراہ کیا ہے۔ درخواست گزار جس اراضی پر اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیں، وہ دراصل پارک کی اراضی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جی ایچ ایم سی نے غیر قانونی تعمیرات کو روکنے میں ناکامی پر ٹاؤن پلاننگ سوپر وائزر کو معطل کردیا اور دو اسسٹنٹ سٹی پلانرس کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے وکیل کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے جسٹس سیشا سائی نے عبوری حکم التواء جاری کیا اور مقدمہ کی آئندہ سماعت دو ہفتہ کے بعد مقرر کی ہے۔