کوڑہ دانوں میں کچرا جلانے سے آلودگی

جی ایچ ایم سی کی غفلت سے عوام کی صحت کو خطرات لاحق
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : گذشتہ چند دنوں سے شہر حیدرآباد کی جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچرا صفائی کا جدید و انوکھا طریقہ ایجاد کیا گیا جو کہ معصوم شہریوں کی صحت کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔ خاص کر پرانے شہر کے علاقوں میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچرا جمع کرنے والے کوڑے دانوں سے کچرا دور مقامات کو منتقل کرنے کی بجائے اسی کوڑہ دان میں آگ لگادی جارہی ہے ۔ تقریبا ایک گھنٹے تک کوڑہ دان سے نکلنے والا خطرناک دھواں معصوم شہریوں کی صحت پر برا اثر چھوڑ رہا ہے ۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق کچرا جلانے سے جو تعفن فضا میں پھیلتی ہے وہ شہریوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے خاص کر چھوٹے معصوم بچوں پر اس کا خطرناک اثر محسوس کیا جاتا ہے ۔ پہلے ہی شہر حیدرآباد میں فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے اور ایسے میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جارہا ہے جو کہ یقینا تشویش کا باعث ہے ۔ ماہرین صحت کے مطابق کچرا جلانے پر جو دھواں نکلتا ہے وہ صحت کے لیے کافی نقصان دہ ہوتا ہے اور خاص کر اس دھویں کے اثر سے لوگ دمہ کا شکار ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ متعدد خطرناک بیماریاں کچرے کے دھویں سے پھیلتی ہیں ۔ شہر میں سوائن فلو کے اثرات بھی دیکھے جارہے ہیں اور ایسے میں جی ایچ ایم سی کی لاپرواہی شہریوں کو بڑی مصیبت میں ڈال سکتی ہے ۔ جب ہم نے اس مسئلہ پر ایک کچرا اٹھانے والے سے بات کی تو اس نے بتایا کہ جب کوڑے دان میں کچرا جمع ہوجاتا ہے تو ہم جی ایچ ایم سی کی گاڑی کا انتظار کرتے ہیں ۔ گاڑی نہ پہونچنے کی صورت میں ہم کچرے کو کوڑے دان میں ہی جلا دیتے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کو چاہئے کہ فوری طور پر ایسے مقامات کی نشاندہی کرے جہاں پر کچرا اٹھانے کی گاڑیاں وقت پر نہیں پہونچ رہی ہوں اور جو بھی ملازمین اس آلودگی کو پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا نہ پڑے ۔۔