کوپن ہیگن ۔ 17 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ڈنمارک کے دارالحکومت میں دسیوں ہزار افراد آج ایک تعزیتی اجتماع میں جمع ہوئے جہاں شوٹنگ کے واقعہ کے دو مہلوکین کی یاد میں موم بتیاں روشن کرتے ہوئے خراج ادا کیا گیا۔ حالیہ حملے میں دو افراد کی ہلاکت کے واقعہ پر سارا ملک سخت صدمہ کا شکار ہوگیا ہے اور عام طور پر انتہائی پرامن رہنے والے اس ملک میں یہودیوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر پھوٹ پڑنے کے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ دارالحکومت کے تہذیبی مرکز کے قریب ایک چوک میں گذشتہ روز ایک بڑی ریالی منظم کی گئی تھی۔ اس مقام پر جہاں پہلا حملہ ہوا تھا، شرکاء کی کثیر تعداد نے مہلوکین کی یاد میں شمع روشن کیا جس کے نتیجہ میں تاریک سرد رات ان روشنیوں سے جگمگانے لگی تھی۔ پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ 30,000 سے زائد افراد نے یہاں پہنچ کر دو مہلوکین کو خراج عقیدت ادا کیا۔ بندوق بردار کے پہلے حملے میں55 سالہ فلمساز فن نور گارڈ ہلاک ہوگیا تھا
جب آزادی اظہارخیال کے موضوع پر ایک مباحثہ جاری تھا۔ بعدازاں اسی بندوق بردار نے شہر کی سب سے بڑے یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں 37 سالہ دان اوزان ہلاک ہوگیا تھا۔ ڈنمارک کے وزیراعظم ہیل تھورننگ شمڈ نے اس ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈنمارک کے تمام یہودیوں سے آج کی رات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں۔ ڈنمارک کے یہودیوں پر حملہ دراصل ڈنمارک پر حملہ ہے۔ ہم سب پر حملہ ہے‘‘۔ پیرس میں بھی گذشتہ ماہ یہودیوں کو انتہاء پسند حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد تمام یوروپی ممالک کی حکومتیں یہودی برادری کو تحفظ و سلامتی کا یقین دلانے کی کوشش کررہی ہیں۔