ارکان کے انحراف کی حوصلہ افزائی کی مذمت، کے سی آر پر غیر جمہوری طریقے اختیار کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 11۔ مارچ (سیاست نیوز)قانون ساز کونسل کی پانچ نشستوں کے انتخابات میں کامیابی کیلئے برسر اقتدار ٹی آر ایس کی جانب سے کانگریس ارکان کی انحراف کیلئے حوصلہ افزائی کے خلاف بطور احتجاج کانگریس نے رائے دہی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ صدرپردیش کانگریس اتم کمار ریڈی اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کل منگل کے دن قانون ساز کونسل کے انتخابات کی رائے دہی میں کانگریس ارکان حصہ نہیں لیں گے ۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس نے چار امیدوار میدان میں اتارے ہیں جبکہ ایک نشست اپنی حلیف مجلس کو الاٹ کی ہے ۔ کانگریس نے جی نارائن ریڈی کو اپنا امیدوار بنایا ہے تاہم کانگریس کی جانب سے چار ارکان اسمبلی کے انحراف کے بعد پارٹی نے رائے دہی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ۔ اس طرح ٹی آر ایس اور مجلس کے پانچ ارکان کی کامیابی یقینی ہوچکی ہے ۔ کانگریس نے 21 ارکان کی عددی طاقت کے اعتبار سے ایک امیدوار کی کامیابی کی توقع کی تھی لیکن ٹی آر ایس نے یکایک انحراف کی حوصلہ افزائی شروع کردی۔ تلگو دیشم سے ایک اور کانگریس سے چار ارکان اسمبلی نے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔ ان حالات میں کانگریس امیدوار کی کامیابی کو خطرہ لاحق ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مزید تین کانگریسی ارکان ٹی آر ایس سے ربط میں ہیں اور رائے دہی کی صورت میں وہ کراس ووٹنگ کرسکتے ہیں جس سے کانگریس کو مزید نقصان ہوسکتا ہے ۔ لہذا پارٹی میں رائے دہی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر انحراف کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلگو دیشم اور کانگریس ارکان کو لالچ دے کر ٹی آر ایس میں شامل کیا جارہا ہے اور یہ جمہوریت کیلئے خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے 19 اور تلگو دیشم کے دو ارکان کے ساتھ کانگریس ایک نشست پر کامیابی کی طاقت رکھتی تھی لہذا اس نے اپنا امیدوار کھڑا کیا لیکن کے سی آر نے انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپوزیشن کو نقصان پہنچایا ہے ۔ چیف منسٹر کے رویہ کے خلاف کانگریس نے رائے دہی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ۔ قومی سطح پر کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ عوام اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ انہیں فرقہ پرستی کی سیاست کرنے والے نریندر مودی چاہئے یا قربانیوں کا پس منظر رکھنے والے راہول گاندھی ؟ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے ٹی آر ایس کے پاس 16 ارکان اسمبلی تھے لیکن وہ تلنگانہ کا حق حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ اب اگر پھر ایک مرتبہ 16 ارکان ٹی آر ایس کے کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کے سی آر کے غیر جمہوری اقدامات کو دیکھتے ہوئے قانون ساز کونسل کے انتخابات سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری روایات کا احترام کرتے ہوئے کانگریس نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے متفقہ انتخاب کو یقینی بنانے میں مدد کی ۔ کانگریس اور مجلس کے ارکان کی تعداد کے اعتبار سے صرف 4 نشستوں پر کامیابی ممکن ہے لیکن انحراف کے ذریعہ ٹی آر ایس کامیابی کی سازش کر رہی ہے ۔