مختلف محکمہ جات کے دفاتر کا قیام متوقع، کے سی آر کے اچانک دورہ کے بعد قیاس آرائیاں
حیدرآباد۔ 14 اکتوبر (سیاست نیوز) عرصہ دراز سے غیرآباد نذری باغ کنگ کوٹھی بہت جلد ایک مرتبہ پھر آباد ہوجائے گی۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ دور سلطنت آصفیہ کی اس اہم ترین عمارت کو دوبارہ آباد کرنے کے متعلق سنجیدہ کوششیں شروع کرچکے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ یوم چیف منسٹر نے کنگ کوٹھی کا معائنہ کرنے کے بعد عہدیداروں سے اس عمارت کے استعمال کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کیمپ آفس کے لئے بھی اس عمارت کے متعلق غور کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں مسٹر کے چندر شیکھر راؤ آصف جاہی حکمرانوں کی ملکیت والی اس عمارت کو دیگر اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے متعلق غور کررہے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے موجودہ چیف منسٹر کیمپ آفس کے علاوہ کندن باغ میں نشاندہی کردہ دو عمارتوں کو مسترد کردیا تھا اور اب چیف منسٹر کیمپ آفس کے لئے ایک اور عمارت کی تزئین نو قریب الختم ہے۔ ایسی صورت میں چیف منسٹر کی جانب سے کنگ کوٹھی کا معائنہ کئے جانے کے ساتھ ہی مختلف اطلاعات گشت کرنے لگی ہیں۔ بعض عہدیداروں کا خیال ہے کہ چیف منسٹر فوری طور پر تلنگانہ ہائیکورٹ کو علیحدہ کرتے ہوئے اس عظیم الشان کوٹھی میں منتقل کرنے کے خواہاں ہیں۔ تلنگانہ ہائیکورٹ کے قیام کے سلسلے میں اپنے دورۂ دہلی کے دوران مرکز اور چیف جسٹس آف انڈیا سے خواہش بھی کی ہے کہ لیکن نذری باغ کنگ کوٹھی میں تلنگانہ ہائیکورٹ کے قیام کی قیاس آرائیوں کو اس لئے مسترد کیا جارہا ہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ کے عارضی قیام کے لئے حکومت کو اس عمارت کا حصول ضروری نہیں ہے چونکہ موجودہ ہائیکورٹ کی عمارت سے آندھرا پردیش ہائیکورٹ کو منتقل ہونا ہے جبکہ تلنگانہ ہائیکورٹ موجودہ عمارت میں برقرار رہ سکتا ہے۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ کے عارضی قیام کے لئے اس عمارت کا انتخاب درست نہیں ہے۔ اسی طرح چیف منسٹر کیمپ آفس قائم کرنے کے لئے بھی کنگ کوٹھی کو درست تصور نہیں کیا جارہا ہے چونکہ آصف جاہی سلاطین کا زوال اسی کوٹھی میں قیام کے دوران ہوا تھا اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ واستو اور شگون جیسی چیزوں پر کافی یقین رکھتے ہیں۔ محکمہ عمارات و شوارع کے علاوہ محکمہ اطلاعات کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ حکومت تلنگانہ کے تمام محکمہ جات کے دفاتر کو یکجا کرنے کے منصوبہ پر عمل آوری کیلئے نذری باغ کنگ کوٹھی کا انتخاب کرسکتی ہے۔ اسی لئے شاید چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے اس عمارت کا معائنہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر کے دفتر کی جانب سے کنگ کوٹھی کی تزئین نو کے علاوہ آہک پاشی و دیگر مرمتی کاموں کے متعلق تخمینہ لگایا جانے لگا ہے۔ حکومت تلنگانہ کے منصوبوں میں ریاست تلنگانہ کے تمام محکمہ جات کے صدر شعبہ کو ایک مرکزی مقام پر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے اور اس سلسلے میں ممکن ہے کہ حکومت کی جانب سے کنگ کوٹھی کا انتخاب عمل میں لایا جائے چونکہ کنگ کوٹھی کی عمارت نہ صرف تاریخی و تہذیبی ورثہ ہے بلکہ یہ وسیع و عریض عمارت قلب شہر میں واقع ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ سے شہزادی اسریٰ جاہ کی ملاقات اور چیریان پیالس کے علاوہ موجودہ کے بی آر پارک کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور پرنسیس اسریٰ نے ملاقات کے دوران کے بی آر پارک کو آصف ثامن نواب میر برکت علی خاں مکرم جاہ بہادر کے نام سے موسوم کرنے کی خواہش کی تھی۔ واضح رہے کہ موجودہ کے بی آر پارک، چیریان پیالیس کی اراضی پر قائم کیا گیا ہے اور فی الحال یہ پارک محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کنگ کوٹھی پیالیس کے حصول کیلئے کے بی آر پارک کی آصف جاہی خاندان کو واپسی کے متعلق بھی غور کرسکتی ہے۔