کم عمر طالب علم شیخ مصطفیٰ کے قتل میں فوج ملوث نہیں

عام شہری کا فوجی وردی پہن کر کارروائی کا شبہ ،عدالت میں حلفنامہ
حیدرآباد۔2فبروری( سیاست نیوز) شیخ مصطفیٰ الدین قتل کیس کے سلسلہ میں ہائیکورٹ میں داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران آج فوج نے اپنا حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کسی بھی فوجی کے ملوث ہونے سے انکار کردیا ۔ لیفٹننٹ کرنل کیمپ کمانڈنٹ 47انفنٹری بریگیڈ اتل دیوی نے آج عدالت میں فوج کی جانب سے حلفنامہ داخل کرتے ہوئے عدالت کو یہ بتایا کہ مصطفیٰ الدین قتل کیس کے سلسلہ میں ہمایوں نگر پولیس اور اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم نے 70فوجیوں کی تفتیش کی تھی اور فوج پولیس تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کررہی ہے ۔ لیفٹننٹ کرنل نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ عام شہری فوج کی وردی پہن کر یہ واردات میں ملوث ہوئے ہوں گے ۔ لانس نائیک اپلا راجو کی خودکشی سے متعلق وضاحت پیش کرتے ہوئے فوج نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے مسلسل تفتیش کرنے کے سبب یہ انتہائی اقدام کیا ہوگا اور اُس کی خودکشی کا اس قتل کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ فوج نے یہ واضح طور پر بتایا ہے کہ انہیں کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے اس کیس میں تحقیقات کرنے سے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ کم عمر طالب علم شیخ مصطفی الدین قتل کیس کے سلسلہ میں سی بی آئی تحقیقات کروانے یہاں کے ایک مقامی وکیل ایڈوکیٹ غلام ربانی نے درخواست مفاد عامہ عدالت میں داخل کی تھی اور اس سلسلہ میں کمشنر پولیس حیدرآباد نے اپنا حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات سے متعلق تفصیلات سے واقف کروایا تھا ۔