یوپی سرفہرست، مہاراشٹرا اور تلنگانہ دوسرے اور تیسرے مقام پر
نئی دہلی 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حقوق اطفال سے متعلق تنظیم چائیلڈ رائٹس اینڈ یو (کرائی) کے ایک نئے تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ 10 سال کے دوران کمسن بچوں کے خلاف جرائم میں 500 فیصد کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔ کرائی کے تجزیہ کے مطابق 2006 ء میں بچوں کے خلاف جرائم کے 18,967 واقعات کے مقابلے 2016 ء میں 106958 واقعات پیش آئے۔ کرائی کے بیان کے مطابق ’’بچوں پر جرائم کے 50 فیصد سے زائد واقعات صرف پانچ ریاستوں اترپردیش، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، دہلی اور مغربی بنگال میں پیش آئے‘‘۔ اس غیر سرکاری تنظیم کے مطابق بچوں پر ہوئے ان جرائم میں 15 فیصد کے ساتھ اترپردیش سرفہرست رہا جس کے بعد مہاراشٹرا اور مدھیہ پردیش بالترتیب 14 اور 13 فیصد واقعات کے ساتھ دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔ اس ادارہ نے کہاکہ ’’یہ مسئلہ سنگین تشویش کا سبب ہے کہ 36 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے منجملہ 11 میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 50 فیصد واقعات پیش آئے ہیں اور 36 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے منجملہ 25 میں کمسن بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے ایک تہائی واقعات پیش آئے ہیں۔ جرائم ریکارڈ کرنے والے قومی بیورو کی تفصیلات کے 2015 ء کے مقابلے 2016 ء میں بچوں پر جنسی جرائم میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔