کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کو نظر انداز کرنے کا الزام

حیدرآباد۔19۔نومبر (سیاست نیوز) ریاستی اسمبلی میں آج اس وقت شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھے گئے، جب کانگریس پارٹی کے رکن سمپت کمار نے مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے ۔ سمپت کمار کی جانب سے حکومت پر کمزور طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی کو نظر انداز کرنے اور انتخابی وعدوں پر عمل آوری میں ناکامی کا الزام عائد کئے جانے پر برسر اقتدار پارٹی کے ارکان بھڑک اٹھے اور نعرہ بازی شروع کردی۔ کانگریس و ٹی آر ایس ارکان کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا اور ایک مرحلہ پر کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر احتجاج کرنے لگے۔ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کے کانگریس حکومت کے خلاف بعض ریمارکس نے اسمبلی میں صورتحال کو ہنگامہ خیز کردیا۔ شور و غل کے دوران ٹی آر ایس کے رکن ایس بال کرشن جو فنکار بھی ہیں، گانے کے انداز میں کانگریس پر تنقید کا آغاز کیا اور کے سی آر کی ستائش کی ۔ اس مرحلہ پر اظہار خیال کا موقع نہ دیئے جانے اور برسر اقتدار پارٹی ارکان کے الزامات سے ناراض ہوکر کانگریس ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی نے اجلاس کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی۔ درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق مطالبات زر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے سمپت کمار نے حکومت پر انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریب خاندانوں کیلئے دو بیڈروم پر مشتمل آر سی سی مکان کا وعدہ کیا لیکن آج تک اس وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے چیف منسٹر کے پاس ہاؤزنگ اور دیگر اہم قلمدانوںکی موجودگی پر بھی اعتراض کیا ۔

وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے سمپت کمار کے ریمارک ریکارڈ سے حذف کرنے اسپیکر سے درخواست کی ۔ مباحث جاری رکھتے ہوئے کانگریسی رکن نے کہا کہ ملک میں کانگریس دور حکومت میں کمزور طبقات کی ترقی ہوئی ہے۔ کانگریس کا مطلب ترقی اور ترقی کا مطلب کانگریس ہے۔ وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے مداخلت کی اور کہا کہ کانگریس کی بے قاعدگیوں کی ایک طویل فہرست ہے جسے وہ دہرانا نہیں چاہتے۔ انہوں نے سمپت کمار کو مشورہ دیا کہ وہ اس طرح کی تقریر گاندھی بھون یا ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے آفس میں کریں۔ سمپت کمار نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کو فیس باز ادائیگی کیلئے حکومت نے بجٹ جاری نہیں کیا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں اس منفرد اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کرتے ہوئے انتخابات میں ان کے ووٹ حاصل کئے گئے لیکن آج تک یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کس طرح ممکن ہے؟ اقلیتوں نے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کا ساتھ دیا تھا لیکن آج انہیں وعدوں کی تکمیل کیلئے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس حکومت پر دلتوں سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ ریاست کا پہلا چیف منسٹر دلت کو بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن انتخابی نتائج کے ساتھ ہی وہ وعدے سے منحرف ہوگئے ۔