اپوزیشن جماعتوں کا اسکیمات پر استدلال مسترد ، ایوان اسمبلی میں وزیر فینانس کا جواب
حیدرآباد۔24۔نومبر (سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ ریاست میں کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جائے گا اور ایس سی ، ایس ٹی و اقلیت سے تعلق رکھنے والی غریب لڑکیوں کی شادی کے موقع پر فی کس 51,000 ہزار روپئے کی امداد جاری کی جائے گی ۔ وقفہ سوالات کے دوران شریمتی ریکھا اور سنیتا کے سوال پر وزیر فینانس نے کہا کہ حکومت نے غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی کو آسان بنانے کیلئے ان اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ لڑکی کی پیدائش کو والدین بوجھ تصور کر رہے ہیں، ٹی آر ایس حکومت نے شادی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے یہ منفرد اسکیم شروع کی ہے۔ راجندر نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں ان اسکیمات کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا ۔ تاہم غریب خاندانوں میں شادی کے مسئلہ پر معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے یہ اسکیم شروع کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکیمات کے بارے میں عوام میں شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ 2 اکتوبر سے ان اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسکیم سے استفادہ کیلئے آگے آئیں۔ وزیر فینانس نے اپوزیشن جماعتوں کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ ان اسکیمات کی شرائط غریب خاندانوں کیلئے ناقابل تکمیل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسکیم سے استفادہ کیلئے لڑکی کو 18 سال سے زائد عمر کا ہونا اہم شرط ہے۔ اس کے علاوہ والدین کی آمدنی اور کاسٹ سرٹیفکیٹ کا ادخال کافی ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ درخواستیں کسی بھی ایم آر او کے دفتر یا آن لائین داخل کی جاسکتی ہیں۔ حکومت شادی کے دن ہی 51,000 روپئے لڑکی کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ راجندر کے مطابق کلیان لکشمی اسکیم کیلئے درج فہرست اقوام کو 150 کروڑ ، درج فہرست قبائل 80 کروڑ اور اقلیتوں کی شادی مبارک اسکیم کیلئے 100 کروڑ روپئے بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ارکان کو تیقن دیا کہ پسماندہ طبقات اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کو اسکیم سے استفادے پر غور کیاجائے گا۔ اس سلسلہ میں حکومت بہت جلد پسماندہ طبقات کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رقم کی منتقلی کے لئے بینک اکاؤنٹ کی موجودگی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلیان لکشمی اسکیم کے تحت نلگنڈہ میں 4 اور ورنگل میں صرف ایک درخواست وصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین فرقہ جاتی شادیوں کے سلسلہ میں ضروری ہے کہ لڑکے کا تعلق ایس سی ، ایس ٹی یا اقلیتی طبقہ سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بہبودی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری کو اہم ترجیح دے رہی ہے۔ کانگریس اور تلگو دیشم ارکان نے سابقہ بنگارو تلی اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں استفسار کیا۔ مختلف جماعتوں کے ارکان نے اسکیم کی ستائش کی۔ تاہم اس پر عمل آوری میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔