حیدرآباد ۔ 15 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ڈپٹی فلور لیڈر کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اسکیم سے تلنگانہ ریاست میں طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوجانے کے شکوک کا اظہار کیا ۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے غریب اقلیتی اور ہندو لڑکیوں کے لیے دو اسکیمات شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کا اعلان کیا ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان اسکیمات کے لیے رہنمایانہ خطوط ابھی تک جاری نہیں کئے گئے ۔ مگر اس میں وہ ناکام ہے کیوں کہ آن لائن اسکیم ویب سائٹ کا شادی اسکیم سے کوئی لنک نہیں ہے ۔ جس پر 2 اکٹوبر سے عمل آوری ہونے کا حکومت نے اعلان کیا ہے ۔ اس اسکیم سے استفادہ کے لیے 9 تا 10 ڈاکومنٹس منسلک کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ عوام میں الجھن پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کررہے ہیں ۔
اسکیم کے تحت غریب لڑکی کی شادی کے لیے 51 ہزار روپئے دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ لیکن مکمل ڈاکومنٹس نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے سرکاری مشنری کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کیا جارہا ہے ۔ ڈپٹی فلور لیڈر کونسل نے حکومت کو انتباہ دیا کہ وہ فوری اس اسکیم کو آسان اور قابل استعمال بنائے ورنہ غریب عوام چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیام گاہ کے سامنے احتجاج کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 2008 میں اس اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے غریب لڑکیوں کے لیے 15 ہزار روپئے دینے کی شروعات کی تھی ۔ 2012 کی اسکیم کی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے 25 ہزار روپئے کر دیا گیا ۔ کانگریس حکومت نے اس اسکیم سے استفادہ کے لیے آسان قواعد تیار کئے تھے ۔ راشن کارڈ یا اسکیم سرٹیفیکٹ کے ساتھ مقامی مسجد کے پیش امام کی تصدیق کو کافی قرار دیا تھا ۔ انہوں نے شادی مبارک اسکیم کو آدھار سے جوڑنے کی بھی سخت مذمت کی ۔۔