بین الاقوامی عدالت کا اقدام، وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا بیان
نئی دہلی ۔ 14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) کلبھوشن جادھو مقدمہ کی بین الاقوامی عدالت سے انصاف میں زبانی دلائل کی سماعت کا 18 فبروری سے دوبارہ آغاز ہوگا۔ وزارت خارجہ نے آج اس کا انکشاف کیا۔ 48 سالہ کلبھوشن جادھو کو پاکستانی فوجی عدالت نے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزام میں اپریل 2017ء کو سزائے موت سنائی تھی۔ ہندوستان میں بین الاقوامی عدالت انصاف سے اس مقدمہ کو اسی سال رجوع کیا تھا۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کی 10 رکنی بنچ نے 18 مئی 2017ء کو حکومت پاکستان کو جادھو کو اس مقدمہ میں سزائے موت دینے سے روک دیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے مزید تفصیلات کے انکشاف سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف 18 فبروری سے دوبارہ سماعت کا آغاز کررہی ہے۔ ہندوستان اس مقدمہ میں عدالت کے اجلاس پر حاضر ہوگا کیونکہ معاملہ عدالت میں زیردوران ہے اس لئے اس ان کیلئے مزید تفصیلات کا انکشاف درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو جو کچھ کرنا ہے ہم عدالت میں کریں گے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کلیدی عدالتی شعبہ برائے اقوام متحدہ ہے جس میں جادھو مقدمہ کی پیر 18 فبروری سے جمعرات 21 فبروری 2019ء تک سماعت ہوگی۔ پاکستان کا ادعا ہیکہ فوج نے جادھو کو شورش زدہ بلوچستان صوبہ سے 3 مارچ 2016ء کو گرفتار کیا تھا جبکہ وہ مبینہ طور پر ایران سے یہاں داخل ہوا تھا۔ تاہم ہندوستان کا ادعا ہیکہ جادھو کا ایران سے اغوا کیا گیا تھا اور بحریہ سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ کاروبار کررہا تھا۔ اس جادھو کی سزائے موت پر ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع ہوا تھا تاکہ ویانا کنونشن برائے قونصل تعلقات 1953ء کی پاکستان نے جادھو مقدمہ میں صریح خلاف ورزی کی تھی۔