تعلیم کی تکمیل تک تعلیمی اخراجات برداشت کرنے فیض عام ٹرسٹ کا اعلان ، سیاست کے تعاون سے مظلومین کی مدد کا سلسلہ جاری
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست : کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے اس کا تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم رہنا بہت ضروری ہے جس قوم میں تعلیم اور تجارت کا فقدان ہو وہ پسماندگی کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اور بدقسمتی سے مسلمانوں میں تعلیمی اور معاشی پسماندگی بہت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ نتیجہ میں ہر سطح پر ہم استحصال کا شکار بنے ہوئے ہیں لیکن ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں سیاست اور فیض عام ٹرسٹ جیسے ادارے موجود ہیں جو مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی سطح پر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ ماہ قبل کشن باغ سکھ ۔ مسلم فسادات میں غریب مسلمانوں کو زبردست جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے ۔ جن میں تلوار کے مار اور سی آر پی ایف کی گولیوں سے زخمی ہونے والے شامل تھے ۔ 20 مئی 2014 کو دفتر سیاست میں کشن باغ کے متاثرین میں 6.4 لاکھ روپیوں کی امداد جو دراصل فیض عام ٹرسٹ اور عنایت ویلفیر چیاریٹیبل ٹرسٹ نے روزنامہ سیاست کے توسط سے تقسیم کی گئی تھی ۔ اس وقت مصیبت زدوں کے لیے حقیقت میں فیض عام بنے ہوئے فیض عام ٹرسٹ نے پروین سلطانہ نامی ایک غریب خاتون سے ان کی تباہ شدہ دکان کو آباد کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اللہ کے فضل سے فیض عام ٹرسٹ نے 18 جون کو اپنا وعدہ پورا کیا ۔ دفتر سیاست میں پروین سلطانہ اور ان کے شوہر محمد لالہ کو طلب کرتے ہوئے انہیں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین ، ٹرسٹی جناب رضوان حیدر اور جناب علی حیدر عامر کی موجودگی میں 25 ہزار روپئے حوالے کئے گئے ۔ جس کے نتیجہ میں آج پروین سلطانہ کی دکان پھر ایک بار چل پڑی ہے اور وہ یومیہ 200 روپئے کمانے کے قابل ہوگئی ہیں ۔ اب سب سے اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ فیض عام ٹرسٹ نے اپنے ایک اور وعدہ کے مطابق پروین سلطان کی 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے کو انگریزی میڈیم اسکول میں داخلہ بھی دلادیا تھا ۔ ان کی داخلہ فیس ، ماہانہ فیس ، کتابوں اور یونیفارم کا بھی اس ادارہ نے انتظام کردیا ہے ۔ آج دفتر سیاست میں اس خاندان نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر پروین سلطانہ کے بچوں میں یونیفارمس اور کتب کی تقسیم عمل میں آئی ۔ فیض عام ٹرسٹ نے ان بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ پہلے یہ بچے اردو میڈیم اسکول میں تھے ۔ انہیں جناب افتخار حسین نے ایم ایس گرامر اسکول سکھ چھاونی کشن باغ حیدرآباد میں داخلہ دلایا ہے ۔ تین بچوں کی داخلہ فیس 1500 ماہانہ فیس معہ ٹیوشن فیس 9000 روپئے کتب کے لیے 4356 روپئے اور یونیفارم پر 5540 روپئے کے مصارف آئے اس طرح پروین سلطانہ کے خاندان کی مدد کے لیے فیض عام ٹرسٹ نے اب تک جملہ 55396 روپئے خرچ کئے ہیں ۔ پروین سلطانہ اور ان کے شوہر محمد لالہ نے جو بٹلر کا کام کرتے ہیں بتایا کہ جناب زاہد علی خاں اور جناب افتخار حسین نے ایک غریب خاندان کی بروقت مدد کی ہے ۔ آج ان کی دکان بھی اچھی چل رہی ہے ۔ اور فیض عام ٹرسٹ نے ان کے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتے ہوئے احسان کیا ہے اور وہ اس احسان کے لیے بارگاہ رب العزت میں ان ہمدردان ملت کے حق میں دعا کرتے رہیں گے ۔ پروین سلطانہ کے بچوں کے بھی مطابق وہ پڑھائی پر توجہ دیں گے اور ان سے ماں باپ نے جو امید رکھی ہے ۔ انشاء اللہ اسے پورا کریں گے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے اس موقع پر پروین سلطانہ اور ان کے شوہر کو مشورہ دیا کہ کاروبار محنت و دیانتداری سے انجام دیں اور بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔ واضح رہے کہ عرش محل کشن باغ میں 14 مئی کو سکھوں کے حملے میں متعدد مسلمان زخمی ہوئے تھے جب کہ پولیس فائرنگ میں تین افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ فسادیوں نے مسلمانوں کی دکانات اور مکانات کو نقصان پہنچایا تھا ۔ ان مظلومین کی مدد کے لیے سیاست ، فیض عام ٹرسٹ اور عنایت ویلفیر چیاریٹیبل ٹرسٹ سب سے پہلے آگے آئے تھے ۔۔