حیدرآباد۔/14مئی، ( سیاست نیوز) کشن باغ میں سکھ پرچم کو مبینہ طور پر نذرآتش کئے جانے کے واقعہ کے بعد اشرار کی ہنگامہ آرائی پر کنٹرول کیلئے کی گئی پولیس فائرنگ کے دو مہلوکین کی جامع مسجد عرش محل میں آج بعد مغرب نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاںمتصلہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ مقامی افراد اور دیگر سوگواروں کی بہت ہی کم تعداد موجود تھی لیکن پولیس کی کثیر تعداد اطراف و اکناف کے سارے علاقہ کا پہرہ دے رہی تھی۔ مقامی افراد نے اس پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ گنگا جمنی تہذیب کے اس شہر میں یہ بد نما داغ رونما ہوا ہے جہاں ایک طرف پولیس نے اشرار کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تو دوسری طرف جنازہ کی تدفین کیلئے پہونچنے والوں کا محاصرہ کیا جارہا ہے۔ مہلوکین کے مکانات کو بھی پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسیس کے محاصرہ میں لیا جاچکا ہے۔ ایک مقامی شخص نے برہمی کے ساتھ سوال کیا کہ کیا یہ فلسطین یا کشمیر ہے یا پھر گہوارہ امن حیدرآباد ہے؟ اس پرامن علاقہ میں پولیس کا ایسا رویہ قابل مذمت ہے۔ سائبرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند نے تدفین کی نگرانی کی۔ جوائنٹ کمشنر گنگادھر علاقہ میں کیمپ کئے ہوئے تھے۔ اے پی ایس پی کی خصوصی بٹالین علاقہ میں چوکس تھیں جبکہ پولیس ملازمین ویڈیو گرافی میں مصروف تھی اور قبرستان کے راستہ پر آنسو گیس برسانے والی گاڑی تعینات تھی۔
ماں کے ہاتھوں شیرخوار کا قتل
حیدرآباد ۔ 14 مئی (سیاست نیوز) پارسی گٹہ علاقہ میں پیش آئے ایک دلخراش واقعہ میں ماں نے اپنے دو سالہ شیرخوار کا قتل کردیا۔ پولیس کے بموجب میناکماری اکثر اپنے شوہر نرسمہا سے جھگڑا کیا کرتی تھی۔ لڑکی کی سالگرہ وہ شوہر سے روپئے طلب کی تھی انکار پر لڑکی کا گلا گھونٹ دیا۔