کشمیر کی ترقی اور ریاست کو سیاحتی مرکز بنانے کا وعدہ

کشٹوار۔ 22 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے لئے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے آج عہد کیا کہ وہ جمہوریت ، انسانیت اور کشمیریوں کے لئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ’’خواب‘‘ کو پورا کریں گے کیونکہ واجپائی کی جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں میں ’’خاص جگہ‘‘ ہے۔ ریاست میں اپنی پہلی انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جمہوریت، انسانیت اور کشمیریت یہ الفاظ اٹل بہاری واجپائی کے ہیں، اپنی جگہ اٹل ہیں۔ بہتر مستقبل کے لئے ہر ایک کشمیری میں اُمید کی کرن جگاتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ میں عوام پر زور دیتا ہوں کہ وہ جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت کو اقتدار حوالے کریں اور میری زبان پر بھروسہ کریں۔ میں ان خوابوں کو یقیناً پورا کروں گا جن خوابوں کو اٹل جی نے دیکھا تھا۔ انہوں نے مذہب کو سیاست سے جوڑنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک کشمیری ایک کشمیری ہی ہوتا ہے‘‘۔ مرکزی حکومت نے ریاست کی ترقی کا عہد کیا ہے اور یہ عہد پورا کرکے رہیں گے۔ ہماری کوشش صرف ترقی، ترقی ، ترقی ہے اور میں آپ کے بھروسہ کو سود سمیت واپس کروں گا۔

کشمیر کو ترقی دینے کے عہد کی پابند کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ واجپائی کی جانب سے شروع کردہ کاموں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ میں بھی کشمیر سے گہری وابستگی رکھتا ہوں۔ کشمیر ہماری سانسوں اور دل میں بسا ہے۔ مودی نے اپنے دورہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں یہاں جولائی، اگست، ستمبر، اکتوبر اور اب نومبر میں بھی آیا ہوں۔ ریاست کی سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بکیٹ میں سوراخ ہو تو اس میں پانی نہیں ٹھہرے گا۔ مجھے حیرت ہے کہ آخر مرکز سے ملنے والی رقومات کہاں چلی گئیں۔ اب میں ترقی کے لئے یہاں آیا ہوں، میں چاہتا ہوں ریاست کی ترقی کو بہرصورت یقینی بنایا جائے۔ نریندر مودی نے بحیثیت چیف منسٹر گجرات مسلم اکثریتی کچھ علاقہ کی تیز رفتار ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے وادی کشمیر میں بھی اس طرح کی ترقی کا وعدہ کیا ۔ انہوں نے ریاست کو سیاحتی مرکز بنانے کا وعدہ کیا اور کہا کہ فلمی صنعت کو دوبارہ یہاں لایا جائے گا ۔ اس سے پہلے فلموں کی شوٹنگ یہیں ہوا کرتی تھی ۔ نریندر مودی نے کشٹوار میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران متنازعہ دفعہ 370 کے تذکرہ سے گریز کیا اور کہا کہ اگر کچھ علاقہ کو ترقی دی جاسکتی ہے تو کشمیر کی بھی ترقی ممکن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح وہ بار بار کشمیر کا دورہ کررہے ہیں اسی طرح بحیثیت چیف منسٹر کچھ کا دورہ کیا کرتے تھے ۔ یہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہے ۔ یہاں پہلے روزگار کے مواقع نہیں تھے ۔ لیکن گزشتہ دس سال میں یہ ہندوستان کا تیز رفتار ترقی کرنے والا ضلع بن گیا ۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس سربراہ فاروق عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں علاقہ کچھ کو نرمدا ندی سے پانی سربراہ کرنے والی پائپ لائن کا سائز کتنا ہے ۔ اس پائپ میں عبداللہ کا سارا خاندان کار میں بیٹھ کر سفر کرسکتا ہے ۔ انہوں نے ریالی میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک کسی سیاسی جماعت نے اتنی بڑی ریالی منعقد نہیں کی ۔ بی جے پی نے اس ریالی میں ایک لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا ہے جب کہ پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے 70 ہزار سے زائد تعداد بتائی ہے ۔۔