حیدرآباد۔/20فبروری، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کویتا نے کشمیر میں پی ڈی پی سے اتحاد کے ذریعہ تشکیل حکومت کی بی جے پی کی کوششوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں سے انحراف مناسب نہیں ہوگا۔ کویتا آج جموں کشمیر اسٹڈی سنٹر حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ جموں کشمیر سنکلپ دیوس ‘‘ سے خطاب کررہی تھیں۔ فبروری 1994میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کشمیر کے حق میں منظورہ قرارداد کی یاد میں اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کویتا نے کہا کہ ٹی آر ایس ہمیشہ ہی کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور مرکزی حکومت مقبوضہ علاقوں کی واپسی کیلئے جو بھی قدم اٹھائے گی اس کی مکمل تائید کی جائے گی۔ انہوں نے بی جے پی ۔ پی ڈی پی امکانی اتحاد کو غیر اصولی قرار دیا اور کہا کہ انتخابات سے قبل بی جے پی نے کشمیری عوام سے جو وعدے کئے تھے ان سے انحراف کیا جارہا ہے۔ پی ڈی پی ایسی پارٹی ہے جس کے نظریات بی جے پی سے بالکل مختلف ہیں اور وہ کشمیر میں خود اختیاری کے حق میں ہے لہذا ایسی پارٹی سے مفاہمت ناقابل فہم ہے۔ کویتا نے کہا کہ بی جے پی نے انتخابات سے قبل کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 ، کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری اور مسلح افواج کو خصوصی اختیارات کی برقراری کا وعدہ کیا تھا لیکن آج پی ڈی پی سے مفاہمت کی کوشش اس لئے بھی باعث حیرت ہے کہ پی ڈی پی دفعہ 370 کی برقراری اور مسلح فورسیس کو زائد اختیارات کی برخاستگی کی مانگ کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی نے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں سے یو ٹرن لے لیا ہے۔(باقی سلسلہ صفحہ 9 پر)