سرینگر۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پانچ سال کے وقفہ سے جموں و کشمیر حکومت نے سخت گیر علیحدگی پسند قائد سید علی شاہ گیلانی کو سرینگر کے مضافات میں جلسہ عام منعقد کرنے کی اجازت دی، ان کے حامیوں میں جیل سے رہا ہونے والے مسرت عالم بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایرپورٹ سے سید علی شاہ گیلانی کو جلوس کی شکل میں ان کے گھر پہونچانے کے دوران پاکستان کی تائید میں نعرے بازی کی جبکہ دیگر افراد پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے۔ گیلانی دہلی میں موسم سرما گزارنے کے بعد بحفاظت اپنی قیام گاہ پر واپس ہوچکے ہیں چنانچہ پولیس نے مسرت عالم کے خلاف ایک مقدمہ درج کرلیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے بموجب ان کی گرفتاری کا بھی اندیشہ ہے۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی ۔ بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہے
جس نے وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو سے اس واقعہ کی شکایت کی ہے کہ ریاستی حکومت نے قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن خاموش تماشائی بنی رہی ۔کانگریس نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس تبدیلی سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ بی جے پی کو چاہئے کہ مخلوط حکومت سے ترک تعلق کرے۔ 45 سالہ مسرت عالم کی پاکستان حامی نعرہ بازی کے علاوہ گیلانی نے بھی نعرہ بازی کی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس نے غیرقانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون کے تحت ایک مقدمہ سخت گیر حریت کانفرنس کے قائد سید علی شاہ گیلانی اور علحدگی پسند قائد مسرت عالم بھٹ کے خلاف درج کرلیا ہے ۔ کیونکہ انہوں نے ایک جلسہ عام کے دوران مبینہ طور پر قوم دشمن نعرے بلند کئے تھے اور پاکستانی پرچم لہرایا تھا ۔
نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب پاکستانی پرچم لہرانے اور پاکستان حامی نعرے بلند کرنے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی نے آج اپنی حلیف پی ڈی پی سے خواہش کی کہ علحدگی پسند قائدین جیسے مسرت عالم کے خلاف فوری سخت کارروائی کی جائے ۔ قاصر رہنے پر ’’سنگین نتائج ‘‘ کا سامنا کرنا ہوگا ۔ بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کئے جائیں تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ مسرت عالم کے خلاف مناسب وقت میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر جموں و کشمیر نرمل کمار سنگھ نے کہا کہ ایک جلسہ عام میں پاکستان حامی نعرے لگائے گئے اور پاکستانی پرچم لہرائے گئے اس لئے کارروائی ضروری ہے ۔