کشمیر میں جماعت اسلامی کے وکیل گرفتار

سری نگر ، 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو عدالت میں دلائل کے ساتھ مقابلہ کرنے کی خواہش مند ہے تاہم قانونی چارہ جوئی کا دروازہ بند کرنے کے لئے حکومت نے جماعت کے دیرینہ کارکن اور ماہر قانون ایڈوکیٹ میر اسداللہ کو بھی پولیس تھانے میں مقید کردیا ہے ۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی طرف سے چہارشنبہ کے روز یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا: ‘گزشتہ دنوں جماعت کے دیرینہ کارکن اور ماہر قانون ایڈوکیٹ میر اسداللہ کو پولیس تھانہ پلوامہ طلب کیا گیا جہاں انہیں واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور یوں جماعت کے ماہر قانون کوبھی غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے حراست میں رکھا گیا۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر، حکومت ہندوستان کی جانب سے لگائی گئی بلاجواز پابندی کو عدالت میں دلائل کے ساتھ مقابلہ کرنے کی خواہش مند ہے تاہم حکومت اب جماعت کے لیے قانونی چارہ جوئی کا دروازہ بھی بند کرنے پر تلی ہوئی ہے اور ماہر قانون ایڈوکیٹ میر اسداللہ کی گرفتاری اس کا منہ بولنا ثبوت ہے ۔