سرینگر، 22 جون (سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سری گفوارہ میں جمعہ کی صبح سے جاری مسلح تصادم میں اب تک 3 جنگجوؤں سمیت 14 افراد مارے جاچکے ہیں۔ مہلوکین میں ریاستی پولیس کا ایک ملازم اور ایک عام شہری بھی شامل ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سری گفوارہ میں مسلح تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان جھڑپوں میں سیکورٹی فورس اہلکاروں سمیت قریب ایک درجن افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں اور ضلع سری نگر میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی ہیں۔ ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ جاری مسلح تصادم میں اب تک 3 جنگجوؤں کو مارا جاچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلح تصادم کے دوران ریاستی پولیس کا ایک ملازم بھی جاں بحق ہوا۔ ڈاکٹر وید کا مزید کہنا ہے کہ مارے گئے جنگجو مبینہ طور پر اسلامک سٹیٹ آف جموں وکشمیر سے وابستہ تھے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جس رہائشی مکان میں جنگجو چھپے بیٹھے تھے ، کا مالک محمد یوسف راتھر کراس فائرنگ کے دوران مارا گیا۔ انہوں نے بتایا ‘طرفین کے مابین ابتدائی فائرنگ میں مکان مالک محمد یوسف راتھر اور ان کی اہلیہ حفیظہ زخمی ہوئی’۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو علاج ومعالجہ کے لئے سب ضلع اسپتال بجبہاڑہ لے جایا گیا جہاں یوسف راتھر کو مردہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حفیظہ کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق مسلح تصادم کے دوران دو فوجی ملازم اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کا ایک ملازم زخمی ہوئے۔زخمی سیکورٹی فورس اہلکاروں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں پولیس اہلکار دم توڑ گیا۔ دریں اثنا سری گفوارہ میں مسلح تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں بھڑک اٹھی ہیں۔ ان جھڑپوں میں قریب ایک درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سیکورٹی فورس ملازم بھی شامل ہیں۔ کچھ زخمیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ یہ وادی میں رمضان سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے بعد جنگجوؤں اور فوج کے درمیان دوسرا مسلح تصادم ہے ۔ریاست کے ضلع پلوامہ میں ایک خودکش حملہ کے دوران 9 افراد ہلاک ہوگئے۔