سرینگر ۔ 15 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے آج کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور تمام فریقوں کو اعتماد میں لیکر غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے اور میں ان لوگوں (حریت کانفرنس) سے واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے نقط ہ نظر سے آگہی رکھتا ہوں جسپر فی الفور توجہ مرکوز کرنے کیلئے مشترکہ کوشش کی جائے۔ مفتی سعید نے بتایا کہ ہمارے پڑوسی پاکستان کے ساتھ بھی بہتر تعلقات کی ضرورت ہے اور سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کیلئے ہر ایک کو تعاون کرنا ہوگا اور ہندوستان کو ترقی کی سمت گامزن کرنے کیلئے سارک کو زینہ بنایا جائے
لیکن اس کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا۔ چیف منسٹر ، سیلاب سے متاثرہ چھوٹے بیو پاریوں اور عوام میں امداد کی تقسیم کے موقع پر ایک تقریب سے مخاطب کیا۔ مفتی سعید نے کہا کہ ان کا نصب العین چیف منسٹر کی کرسی نہیں ہے بلکہ ریاست کو امن اور محبت کا گہوارہ بنانا ہے اور اس مقصد کیلئے اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دیا گیا ہے اور ہم وسیع تر بنیادوں پر ہر ایک کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ کشمیر مسئلہ کا حل تلاش کیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ستمبر میں جو سیلاب کی تباہ کاریاں ہوئی ہے ، گزشتہ 150 میں نہیں دیکھی گئی ۔ اب ہمیں ماضی کو فراموش کر کے مستقبل کی سمت نظر رکھنا ہوگا اور حکومت سیلاب کے متاثرین کی امداد کاربند ہے۔ امداد کی تقسیم کے پہلے مرحلہ میں جن تاجرین کو 5 لاکھ کا نقصان ہوا ہے ، انہیں ایک لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی گئی ہے اور دوسرے مرحلہ میں 10 لاکھ کے نقصان پر دو لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جائے گی۔
دریں اثناء صدر نشین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق کی زیر قیادت مسلم اسکالرس کے ایک گروپ نے آج کہا کہ وادی کو کشمیری پنڈتوں کی واپسی ایک انسانی مسئلہ ہے اور آبائی مقامات پر ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا جاتا ہے ۔ متحدہ مجلس علماء کے اجلاس کے بعد میر واعظ نے میڈیا کو بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے مسئلہ پر ہم سیاست کرنا نہیں چاہتے چونکہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسی نقطہ نظر دیکھتے ہیں۔ میر واعظ نے بتایا کہ کشمیری پنڈت دراصل کشمیری سماج کا ایک حصہ ہیں اور ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا جائے گا اور ہم چاہتے ہیں کہ کشمیری پنڈت اپنے دیہاتوں اور مکانات کو بغیر کسی جبر و تخویف کے واپس آجائیں۔
تاہم میر واعظ نے کہا کہ مجلسی علماء ، وادی میں کشمیری پنڈتوں کیلئے علحدہ کالونیوں کی تعمیر کے خلاف ہے اور ہم حکومت سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیںکہ اس مسئلہ پر آیا وہ ، او ایس ایس اور دیگر تنظیموں کے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کی اعانت کرنا چاہتی ہے جبکہ ان تنظیموں نے میڈیا کے ذریعہ اپنا ایجنڈہ واضح کردیا ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ کشمیری مسلمان فرقہ پرست ہیں نہ مدہبی قائدین تنگ نظر ہے بلکہ ان کے خطبات میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ کی نصیحت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھی مندر یا مذہبی مقام کی بے حرمتی یا نقصان پہنچانے کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت اس مسئلہ کا استحصال کیا جارہا ہے۔