جموں۔/16اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر سے بے گھر ہوئے پنڈتوں کی ایک تنظیم ’ پنون کشمیر‘ نے آج ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں دولت اسلامیہ ( اسلامک اسٹیٹ ) کی جانب سے جو خطرات لاحق ہیں یا جو دھمکیاں دی جارہی ہیں انہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء پنون کشمیر کے کنوینر اگنی شیکھر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا آغاز پاکستانی پرچموں کو لہراتے ہوئے ہوا، اور اب وہاں دولت اسلامیہ ( اسلامک اسٹیٹ ) کے پرچم لہرائے جارہے ہیں جس کے ذریعہ دراصل یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دولت اسلامیہ اب جموں و کشمیر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت کو ان خطرات کو تن آسانی سے نہیں لینا چاہیئے کیونکہ اسلامک اسٹیٹ کے پرچم کا لہرایا جانا انتہائی تشویشناک بات ہے اور اس سے سختی سے نمٹنا چاہیئے۔ یاد رہے کہ 14اکٹوبر کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی وادی میں اسلامک اسٹیٹ کے پرچم لہرائے جانے کے عمل کو کچھ بیوقوفوں کی نادانی سے تعبیر کیا تھا جسے میڈیا کی جانب سے غیر ضروری اہمیت دے کر تشہیر کی جارہی ہے جو یقیناً بدبختانہ ہے۔ نئی دہلی میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ وادی میں اب تک کسی بھی آئی ایس گروپ کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔ اگر کسی نے آئی ایس کا پرچم لہرایا ہے تو وہ احمقوں کی ٹولی ہوگی جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وادی میں آئی ایس موجود ہے۔ کچھ چینلز نے اس معاملہ میں مجھے ( عمر ) گھسٹینے کی کوشش کی جیسے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایس کے پرچم تین موقعوں پر لہرائے گئے تھے اور تینوں ہی موقعوں پر پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہے اور کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ پنون کشمیر کے صدر نشین وجئے چرونگو نے کہا کہ پاکستان ہی تمام دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ ہے اور اسلامک اسٹیٹ، القاعدہ اور لشکر طیبہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔