کشمیری علحدگی پسندوں سے ملاقات حق بجانب : پاک ہائی کمشنر

نئی دہلی ، 20 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی ہائی کمشنر نے آج کچھ دلیرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ یہاں اپنی ملاقاتوں کو حق بجانب ٹھہرایا حالانکہ ہندوستان کا احتجاج ہوا، اور دعویٰ کیا کہ تمام حاملین مفاد کے ساتھ مشغولیت مسئلہ کشمیر کیلئے کوئی حل تلاش کرنے میں اسلام آباد کی کوششوں کا ’’قطعی نتیجہ‘‘ رہا ہے۔ پاکستان ہائی کمشنر عبد الباسط نے کہا کہ دونوں ملکوں کے معتمدین خارجہ کے درمیان 25 اگسٹ کی بات چیت کو ہندوستان کی جانب سے منسوخ کردینا ’’پسپائی‘‘ ہے لیکن نشاندہی کی کہ اس سے مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کرنے میں دونوں پڑوسیوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں فارن کرسپانڈنٹس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے باسط نے کشمیری علحدگی پسند قائدین کے ساتھ گزشتہ دو یوم میں اپنی میٹنگس کی مدافعت کی اور کہا کہ انھوں نے اُن کے ساتھ بات چیت منعقد کرتے ہوئے کوئی پروٹوکول نہیں توڑا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’یہ ایک دیرینہ عمل رہا ہے۔ ہم کشمیری قائدین سے ملتے رہے ہیں ۔اس مسئلے کا پُرامن حل تلاش کرنے کیلئے تمام حاملین مفاد کے ساتھ مشغول ہونے کی اہمیت ہے‘‘۔

ہندوستان نے معتمدین خارجہ کے درمیان بات چیت کو منسوخ کرتے ہوئے پاکستان کو صاف صاف کہہ دیا کہ ہند۔ پاک مذاکرات یا علحدگی پسندوں کے ساتھ میل ملاپ کے درمیان کوئی چیز منتخب کرلے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے پاکستان ، ہندوستان کے ساتھ روابط میں بہتری چاہتا ہے، انھوں نے کہا کہ فارن سکریٹری سطح کی بات چیت کی منسوخی کے تعلق سے ’’قنوطی‘‘ بننے کی ضرورت نہیں اور یہ کہ دونوں ملکوں کو آگے بڑھنا چاہئے۔ باسط نے کہا، ’’لہٰذا یہ خلل ہمیں مایوس نہیں کرنا چاہئے، اور نہ ہماری حوصلہ شکنی کرے کہ ہم ایسے راستے اور طریقے ڈھونڈنے سے رک جائیں جو ہمیں اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کریں جو سرحد کی دونوں طرف ہماری قیادت کی ویژن کی مطابقت میں ہو۔ باسط نے کہاکہ پاکستان گذشتہ 20 سال سے کشمیری قائدین کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ ہماری یہ بات چیت امن کے عمل کیلئے معاون ثابت ہوگی۔ مسئلہ کا پرامن حل نکالنے علحدگی پسند قائدین سے ملاقات ضروری ہے۔ پاکستان تمام دعویداروں سے مذاکرات کا متمنی ہے۔ ہندوستان کے ساتھ بھی پرامن راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے۔