کسی بھی وقت چیف منسٹر کے استعفیٰ کا امکان

حیدرآباد ۔ 16 ؍ فبروری (سیاست نیوز) ریاستی چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی آئندہ دو دن میں یعنی 18 ؍ فبروری کو کسی بھی وقت نہ صرف اپنے عہدے (چیف منسٹری) سے استعفیٰ دیں گے بلکہ کانگریس پارٹی کو بھی خیرباد کہہ گے۔ اور سمجھا جاتا ہے کہ مسٹر کرن کمار ریڈی نئی سیاسی پارٹی تشکیل دیں گے ۔ آج یہاں چیف منسٹر کیمپ آفس سے روانگی کے دوران اخباری نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے بعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے ریاستی وزراء مسرس پی ستیہ نارائینا وزیر سماجی بہبود اور ای پرتاب ریڈی ‘ وزیر قانون و انصاف نے مذکورہ بات کہی ۔ ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر تلنگانہ بل کو منظور ہونے سے پارلیمنٹ میں روکاٹ پیدا کرنے کے لئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو قطعیت دینے ‘ چیف منسٹر عہدے سے استعفیٰ دینے ۔ نئی پارٹی کی تشکیل عمل میں لانے کے مسئلہ پر تفصیلی غورو خوض اور ہر ایک سے رائے و صلاح مشورہ حاصل کرنے کیلئے مسٹر این کرن کمار ریڈی نے اپنے کیمپ آفس پر آج شب ایک توسیعی اجلاس طلب کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس اجلاس میں ریاستی وزراء مسرس ای پرتاب ریڈی ‘ وزیر قانون و انصاف ‘ جی سرینواس راؤ‘ وزیر انفراسٹرکچر ایس وجے راما راجو ‘ وزیر جنگلات و ماحولیات ٹی جی وینکٹیش ‘ وزیر چھوٹی آبیاشی ‘ ٹی نرسمہم ‘ وزیر اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن ڈاکٹر ایس شلیجاناتھ کے علاوہ (28) ارکان اسمبلی اور سات آٹھ ارکان قانون ساز کونسل سیما آندھرا نے چیف منسٹر کے ساتھ اجلاس میں شرکت کی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر مسٹر کرن کمار ریڈی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے مسئلہ ہر ایک سے انفرادی رائے حاصل کی اور استعفیٰ دینے کے علاوہ پارٹی تشکیل دینے کا مکمل اختیار چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کو ہی تمام شرکاء اجلاس نے دیا دیا ۔ لہذا اس صورتحال کی روشنی میں 18 فبروری کو پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی منظوری کے ساتھ ہی نہ صرف چیف منسٹر عہدے سے بلکہ کانگریس پارٹی سے بھی مسٹر کرن کمار ریڈی کے مستعفی ہوجانے کا اظہار کیا گیا ہے ۔

اسی دوران مسٹر پی ستیہ نارائینا وزیر سماجی بہبود نے بتایا کہ اجلاس میں ہرکسی نے ابھی سے استعفیٰ دینے کو نامناسب قرار دیا ۔ اور اس بات کا اظہار کیا کہ جو کچھ ہونا تھا ہو رہا ہے ۔ لہذا جلد بازی میں استعفیٰ دینا کوئی اچھی بات نہیں ہوگی ۔ بلکہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے ساتھ ہی کوئی اقدام کیا جائے تو بہت بہتر بات ہوگی ۔ علاوہ ازیں اجلاس میں شریک ہر ایک کی رائے یہی تھی کہ آئندہ کانگریس پارٹی سے وابستگی ہرگز ممکن نہیں ہوگی ۔ کیونکہ عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ ریاستی وزیر قانون و انصاف مسٹر وی پرتاب ریڈی نے کہا کہ بہر صورت مسٹر این کرن کماریڈی کی قیادت میں نئی پارٹی تشکیل دی جائے گی اور نئی پارٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی اپنے لائحہ عمل کا آغاز ہوجائیگا ۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کے مشورے و فیصلہ کی روشنی میں کونسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کی جانب سے استعفی نہ دیئے جانے کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ محض پارلیمنٹ میں آندھراپردیش تنظیم جدید مسودہ بل پیش نہ کئے جانے قائد اپوزیشن لوک سبھا شریمتی سشما سوراج کے اظہار کئے جانے کی وجہ سے ہی چیف منسٹر عہدے سے مسٹر کرن کمار ریڈی نے استعفیٰ نہیں دیا ۔ اسی دوران وزیر پرائمری ایجوکیشن ڈاکٹر ایس شلیجاناتھ نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل پر مباحث شروع ہونے یا منظور ہونے کے ساتھ ہی مسٹر این کرن کمار ریڈی چیف منسٹر عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے ۔ چیف منسٹر کیمپ آفس پر آج صبح سے رات دیر گئے تک زبردست سرگرمیاں جاری رہیں ۔