نئی دہلی 24 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )دہلی پولیس نے آج عام آدمی پارٹی ریالی کے دوران ایک کسان کی خودکشی کے سلسلہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو تفصیلات اور ثبوت بتانے سے انکار کردیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایک مکتوب جاری کرتے ہوئے کسان کی خودکشی کی تفصیلات پیش کرنے کیلئے صبح 11 بجے تک کی مہلت دی تھی۔ چہارشنبہ کے دن عام آدمی پارٹی کی ریالی میں راجستھان کے کسان گجیندرا سنگھ نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی جس کی دہلی حکومت نے مجسٹریل تحقیقات کا حکم دیا تھا ۔ دہلی حکومت نے مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے پولیس سے تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن پولیس نے قانونی عذر بتاکر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی درخواست کو مسترد کردیا ۔ اس کیس کے سلسلہ میں دہلی پولیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ صبح 11 بجے تک ثبوت پیش کریں ۔ دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے کہا کہ پولیس کو تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت اس مسئلہ کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس ایکٹ پر بھی وہ کام کرتی ہے ۔ اگر کسی کو کوئی شبہ ہو تو ہم اس بارے میں قانونی رائے حاصل کریں گے۔ انہوں نے کسان کی خودکشی سے متعلق تحقیقات کے دوران حکومت اور پولیس کے درمیان مواصلات و رابطہ کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ اس تعطل کے درمیان پولیس کو یہ مراعات حاصل ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کو منکشف نہ کریں۔ جبکہ یہ ایک سیاسی اور انتظامی معاملہ ہے تاہم پولیس ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ تقریبا 7 ہزار کیسس ہر سال غیر فطری اموات کے رونما ہوتے ہیں ۔ دارالحکومت دہلی میں ایسی اموات کی تحقیقات صرف پولیس کرتی ہیںاور حکومت ان تمام کیسوں میں ہر گز دلچسپی نہیں دکھاتی ۔ ایسے میں آخر حکومت مجسٹریل انکوائری کرانا کیوں چاہتی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔ جہیز ہراسانی کیس میں قانون کے مطابق مجسٹریٹ کو تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن کسی اور کیس میں ایف آئی آر داخل کرنے کے بعد پولیس بھی اس تحقیقات کا حصہ بن جاتی ہے ۔