زراعت کو منافع بخش بنانے پر مشاورتی اجلاس، نائب صدرجمہوریہ وینکیا نائیڈو کا خطاب
پونے 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) مزید موافق کسان پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہاکہ قرض معافی ایک مستقل حل نہیں ہے اور آگے اس سے زرعی شعبہ متاثر ہوگا اور کاشت کاروں پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ روایتی زراعت کے کام کے ساتھ پولٹری اور ڈیری جیسی سرگرمیوں کو اختیار کرنے والے کسان خودکشی نہیں کرتے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہاکہ کاشت کار ان کی زرعی پیداوار کو برآمد کرنے کے موقف میں ہونا چاہئے تاکہ انہیں بہتر قیمت وصول ہوسکے۔ مسٹر نائیڈو نے کہاکہ کئی پالیسیوں میں صارفین کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیوں کہ ان کی تعداد بہت ہوتی ہے لیکن کسانوں کی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے اور کہاکہ ہم ان دو مخالف مفادات کا عملی طور پر کس طرح توازن کرتے ہیں یہ ایک برا چیالنج ہے۔ نائب صدرجمہوریہ زراعت کو منافع بخش بنانے پر یہاں ایک قومی سطح کے مشاورتی اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد مخاطب کررہے تھے۔ اس ایونٹ میں زرعی سائنس داں ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن، مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس اور این سی پی سربراہ شردپوار موجود تھے۔