گورنر مہاراشٹرا سی ایچ ودیا ساگر راؤ کی تہنیتی تقریب پر کوی ریڈی راملو کی تنقید
حیدرآباد ۔ 8 نومبر (سیاست نیوز) سابق رکن اسمبلی مٹ پلی (کانگریس) و ایڈوکیٹ مسٹر کومی ریڈی راملو نے 9 نومبر کو جلاوہار حیدرآباد میں گورنر مہاراشٹرا مسٹر سی ایچ ودیا ساگر راؤ کے اعزاز میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے منعقد شدنی ’’تہنیتی تقریب‘‘ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس تقریب کو ’’جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجارہا تھا‘‘ کی تمثیل سے تعبیر کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب ریاست مہاراشٹرا اور ریاست تلنگانہ کے کسان کسمپرسی کے عالم میں خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب یہ حکومتیں گورنر مہاراشٹرا کی شان و شوکت کیلئے تہنیتی تقریب رکھتے ہوئے کسانوں کی نعشوں پر جشن منانا ایک انتہائی شرمناک امر ہے۔ مسٹر کومی ریڈی راملو نے بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (NCRB) کی پیش کردہ تازہ ترین ریکارڈ میں سال 2013ء میں ریاست مہاراشٹرا میں خودکشی کرلینے والے کسانوں کی تعداد 3146 بتایا ہے جبکہ جاریہ سال بھی گذشتہ سال کی طرح کسانوں کی خودکشی کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے اور اسی طرح سے ریاست تلنگانہ میں بھی 2 جون سے تاحال زائد از 348 کسانوں نے خودکشی کی راہ اپنائی ہے جبکہ سرکاری طور پر تلنگانہ میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات کی تعداد کو صرف 79 بتایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تقریب میں جس کا اہتمام حکومت تلنگانہ کرے گی اور جس کے اخراجات کا تلنگانہ کے سرکاری خزانے پر بوجھ عائد ہوگا اور جس میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ بحیثیت مہمان خصوصی کے علاوہ ریاستی کابینہ کے وزراء، ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمان کے علاوہ دیگر سرکردہ سیاسی قائدین کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متذکرہ تہنیتی تقریب کو ملتوی کرنے سے متعلق انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی، چیف منسٹر مہاراشٹرا اور چیف منسٹر تلنگانہ کو بھی خطوط روانہ کرچکے ہیں جس کے جواب کے وہ منتظر ہیں۔ مسٹر کومی ریڈی راملو نے گورنر مہاراشٹرا کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسٹر دویا ساگر نے آزادی تحریک تلنگانہ میں وہ نہ تو حصہ لیئے اور نہ ہی وہ کبھی جیل گئے اور نہ ہی وہ ضلع کھمم کے 7 منڈلوں کو ریاست آندھراپردیش میں ضم ہونے سے بچا سکے بلکہ وہ سیما آندھرا قائدین کے مظاہروں کا تماشہ دیکھتے ہوئے اپنی سستی شہرت کیلئے اخباری نمائندوں کو بیانات جاری کرنے میں مصروف تھے۔ اس موقع پر ہائیکورٹ ایڈوکیٹ مسٹر خواجہ نظام الدین اور مسٹر گوتم ستیہ نارائنا ایڈوکیٹ بھی موجود تھے۔