پریس کانفرنس میں اعلان ۔ تلنگانہ کے حلقوں سے بھی امیدوارو ں کی دستیابی کا ادعا
حیدرآباد۔10مارچ ( سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے اپنی قیادت میں نئی سیاسی جماعت ’جئے سمکھیا آندھرا‘کے نام کا آج اعلان کیا ۔ انہوں نے تلنگانہ سے بھی ٹکٹ کیلئے غیر معمولی درخواستیں وصول ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں ٹکٹ فروخت نہیں کیا جائیگا اور نہ اڈوانس بکنگ کی گنجائش ہوگی ۔ برلن دیوار کا ٹکڑا میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہاکہ مشرقی و مغربی جرمنی کے عوام نے یہ دیوار توڑ دی ۔ سیاسی مفادات کیلئے تلنگانہ اور سیما آندھرا عوام کے درمیان جو دیوار تعمیر کی جارہی ہے اس کو بھی عوام توڑ دیں گے اور اس کی تحریک تلنگانہ سے شروع ہوگی ۔ مادھا پور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر سبم ہری ‘ لگڑا پاٹی راجگوپال کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ کرن کمار ریڈی نے ڈگ وجئے سنگھ سے نئی پارٹی تشکیل نہ دینے کے وعدہ کی تردید کی ۔ ڈگ وجئے سنگھ سے فون پر بات کا اعتراف کیا اور کہاکہ انہوں نے ریاست کو تقسیم کرنے کے فیصلے کو قبول نہ کرکے استعفی دیا اب انکے مشورے کو کیسے قبول کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کی خاطر تلنگانہ اور سیما آندھرا کے عوام کو تقسیم کردیا گیا ہے جس کے خلاف عوام بغاوت کریں گے اور متحد رہنے کی تلنگانہ سے تحریک شروع ہوگی ۔ ریاست تقسیم ہونے کے باوجود متحدہ آندھرا کا نعرہ دینے سے متعلق سوال کے جواب میں کرن کمار ریڈی نے کہا کہ مسئلہ ابھی سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے ۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو نوٹس دی ہے ۔
ایوانوں میں قانون سازی کرنے کے بعد دوبارہ مرکزی کابینہ میں ترمیمات کو منظوری دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکز نے بل کی تیاری میں خاص توجہ نہیں دی ہے ۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کیلئے کانگریس ‘ بی جے پی ‘ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے ذمہ دار چندرا بابو نائیڈو کا انہیں مل کرکام کرنے کی اپیل کرنا توہین کے مترادف ہے ۔ مرکزی وزیر جئے رام رمیش بل دستوری اور قانونی ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ اگر بل درست تھی تو منظوری کے بعد کابینہ میں ترمیم کرنے کی نوبت کیوں آئی ۔ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل پانی اور برقی کی کوئی قلت نہ ہونے کا دعوی کرنے والے سربراہ ٹی آر ایس مسٹر چندر شیکھر راؤ کا محبوب نگر میں قلت کا اعتراف کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ سب سے زیادہ بحران تلنگانہ اور ضلع محبوب نگر کو ہوگا۔ تلنگانہ کو 15ہزار میگاواٹ برقی کی قلت پیدا ہوگی اور جہاں برقی بحران کا سامنا ہوگا وہیں پانی کیلئے جنگ ہوسکتی ہے ۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ 12مارچ کو راجمندری میں پارٹی کا پہلا جلسہ عام منعقد کرکے پارٹی کے تعلق سے وضاحت کی جائیگی ۔ راجمندری میں جلسہ عام کیلئے اجازت نہ ملنے کے سوال پر کرن کمار ریڈی نے کہا کہ جہاں عوام جمع ہوں گے وہیں جلسہ منعقد کیا جائیگا ۔ پارٹی کیلئے عوام میں جوش وخروش ہے ۔ مقابلہ کرنے کے دعویدار درخواستیں پیش کررہے ہیں ‘ کئی قائدین رابطے میں ہیں ۔