کرن کمار ریڈی مستعفی ہونے کے خواہاں، آج حامیوں کا اجلاس

حیدرآباد 11 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کی جانب سے سیما آندھرا کے 6 ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے برطرف کرنے پر چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سخت ناراض ہیں۔ کانگریس اور چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی ہونے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ بطور احتجاج کانگریس کے ایک رکن اسمبلی مسٹر آر سوریہ پرکاش راؤ نے کانگریس سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ چیف منسٹر کو سیما آندھرا کے 40 تا 60 ارکان اسمبلی اور وزراء کی تائید حاصل ہونے کی افواہیں گشت کررہی ہیں۔ ریاست کی تقسیم کی ابتداء سے مخالفت کرنے والے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی سیما آندھرا کے 6 کانگریس ارکان پارلیمنٹ کو پارٹی سے برطرف کرنے پر سخت ناراض ہیں۔ کئی وزراء اور کانگریس کے ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل نے کیمپ آفس پہونچ کر چیف منسٹر سے ملاقات کی۔ چیف منسٹر نے پہلے ہی ریاست کو تقسیم کرنے پر کانگریس سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ امکان ہے کہ اسمبلی میں علی الحساب بجٹ منظور ہونے کے بعد وہ چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے۔ سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں گشت کررہی ہیں کہ وہ دو دن بعد مستعفی ہوجائیں گے یا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی گورنر سے سفارش کریں گے۔

باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کو سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے 40 تا 60 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے اور وہ سب کرن کمار ریڈی پر نئی پارٹی تشکیل دینے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ برطرف شدہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر رایا پاٹی سامبا شیوا راؤ نے کہاکہ اگر چیف منسٹر پارٹی تشکیل دیتے ہیں تو ہم اس میں شامل ہوجائیں گے۔ ریاستی وزیر اسمبلی اُمور مسٹر شیلجہ ناتھ نے کانگریس ہائی کمان کی جانب سے 6 ارکان پارلیمنٹ کو برطرف کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ہم 12 فبروری کو حیدرآباد میں ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں گے۔ ریاستی وزیر سماجی بہبود مسٹر پی ستیہ نارائنا نے کہاکہ چیف منسٹر اپنے فیصلے پر اٹل ہیں۔ کسی بھی وقت مستعفی ہوسکتے ہیں۔

ہم سب چیف منسٹر کے ساتھ ہیں۔ اُنھوں نے ریاست کی تقسیم کو روکنے کیلئے ہرممکن کوشش کی ہے۔ یہاں تک دہلی میں احتجاج بھی کیا ہے۔ مگر کانگریس ہائی کمان من مانی کررہی ہے۔ ریاستی وزیر انفراسٹرکچر مسٹر جی سرینواس نے کہاکہ اپنے علاقہ کے عوامی خدمات کو پیش کرنا مخالف پارٹی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوتا۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے اس سے زیادہ احتجاج کیا مگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بیشتر سیما آندھرا کے وزراء اور کانگریس کے ارکان اسمبلی کو اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ہے۔ ریاست کو تقسیم کرنے کا کانگریس پر الزام ہے اور عوام کانگریس کے خلاف ہیں اس لئے وہ چیف منسٹر پر نئی پارٹی تشکیل دینے پر زور دے رہے ہیں بصورت دیگر کانگریس سے مستعفی ہوکر دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔