عام آدمی فوائد سے محروم، چھوٹے تاجرین کو بھی ڈیجیٹل پر عمل کرنے آر بی آئی کا دباؤ
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ کے ایک سال کے دوران اس کے فوائد عام آدمی کو نظر نہیں آئے لیکن ڈیجیٹل ادائیگی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اداروں کو کرنسی تنسیخ کا زبردست فائدہ ہونے لگا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگی میں کردار ادا کرنے والی کمپنیوں کے ذمہ دارو ںکا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک برس کے دوران ملک بھر میں آن لائن‘ ڈیجیٹل‘ کارڈ کے ذریعہ اور بغیر نقد کے ادائیگی کے رجحان میں 3گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور لوگ نقد کے بجائے کارڈ کے ذریعہ یا پھر ڈیجیٹل ادائیگی پر توجہ مرکوز کرنے لگے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال گذشتہ ڈیجیٹل ادائیگی بشمول کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کا جو رجحان ہوا کرتا تھا وہ 20تا30 فیصد تک تھا لیکن اب یہ رجحان بڑھ کر 70فیصد کو تجاوز کرچکا ہے جو کہ نقدی لین دین کی تخفیف میں اہم ترین امر سمجھا جا رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستو ںمیں اب بھی چلر کے مسائل موجود ہیں اور چھوٹے کاروباریوں کو چلر کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ چلر کی قلت کو دور کرنے کے بجائے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی و وصولی کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل کرنے پر مجبور کیا جا رہاہے۔پے منٹ کونسل آف انڈیا کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل کرنسی کے بڑھتے رجحان سے ملک کی معیشت میں سدھار آئے گا کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو غیر محسوب رکھا جانا دشوار ہوتا ہے ۔ کرنسی تنسیخ کے بعد ؎پیدا ہونے والے حالات کے متعلق تاجرین کا کہنا ہے کہ لوگ ساتھ نقد رکھنے کے باوجود تجارتی اداروں میں ادائیگی میں پس و پیش کر رہے ہیں اور کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کو ترجیح دے رہے ہیں جو کہ نقد لین دین کو بری طرح متاثر کئے ہوئے ہے۔پی سی آئی کے عہدیداروں نے بتایا کہ 12 ماہ کے دوران عوام میں ڈیجیٹل ادائیگی کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے سبب صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور تجارتی برادری کی جانب سے اب پی۔او۔ایس مشینوں کی خریدی میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ہندستان میں ڈیجیٹل ادائیگی کے بڑھتے رجحان کا ہندستانی معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری شکل میں فائدہ حاصل ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے دورکاآغاز شفافیت پیدا کرے گا اور جو لوگ ڈیجیٹل ادائیگی یا وصولی سے بے اعتنائی برتنے لگے ہیں ان کے ریکارڈ س کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگی کا رجحان ملک اور تاجرین دونوں کے لئے فائدہ مند تصور کیا جا رہا ہے۔