’’الیکشن ہندوئوں اور مسلمانوں میں مقابلہ‘‘ بی جے پی رکن اسمبلی کی اشتعال انگیزی، ایف آئی آر درج
حیدرآباد۔20 اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک میں بی جے پی نے انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی تیاری شروع کردی ہے۔ پارٹی قائدین نے انتخابات کو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں مختلف حساس علاقوں میں صورتحال کشیدہ بتائی جاتی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کو کامیابی کے لیے ترقیاتی ایجنڈا کارگر ثابت نہیں ہوسکتا کیوں کہ سدارامیا حکومت نے بی جے پی ریاستوں سے زیادہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات پر عمل کیا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اپنی مہم کے دوران سدا رامیا حکومت پر کرپشن اور دیگر الزامات کے ساتھ عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا بی جے پی کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوا۔ کیوں کہ امیت شاہ نے اپنے ساتھ جس شخصیت کو رکھ کر سدا رامیا کو نشانہ بنایا ان پر بدعنوانیوں کے کئی الزامات ہیں۔ چیف منسٹر کے عہدے کے لیے بی جے پی امیدوار یدی یورپا کے خلاف مقدمات زیر دوران بتائے جاتے ہیں۔ اب جبکہ رائے دہی کی تاریخ قریب آرہی ہے، بی جے پی نے انتخابی ماحول کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ کرناٹک کے کئی علاقے فرقہ وارانہ حساس مانے جاتے ہیں اور بی جے پی نے پرتشدد واقعات اور متنازعہ امور پر احتجاج کے ذریعہ ہندوئوں کے ووٹ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔ شیرمیسور ٹیپو سلطان کی یوم پیدائش تقاریب کو بی جے پی نے فرقہ وارانہ رنگ دیا تھا۔ انتخابی ماحول کو کشیدہ کرنے کے لیے بی جے پی کے رکن اسمبلی سنجے پاٹل نے مورچہ سنبھالا اور متنازعہ بیان دیا کہ مجوزہ انتخابات ترقی کے نام پر نہیں بلکہ یہ ہندو بمقابلہ مسلم ہوں گے۔ سنجے پاٹل نے انتخابی مہم کے دوران یہ اشتعال انگیز بیان دیا۔ بیلگاوی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے سنجے پاٹل نے کہا کہ اسمبلی انتخابات سڑکوں، ڈرین اور پینے کے پانی کے لیے نہیں بلکہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہے۔ ان کی تقریر کا ویڈیو وائرل ہوتے ہی کئی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پاٹل نے یہ تک کہہ دیا کہ بابری مسجد کی تعمیر اور ٹیپو سلطان جینتی منانے والے کانگریس کے ساتھ جاسکتے ہیں جبکہ جو شیواجی کے پیرو ہیں وہ بی جے پی کو ووٹ دیں۔ ہندوستان ہندو ملک ہے اور رام مندر کی تعمیر ضروری ہے۔ میں رام مندر کی تعمیر کے عہد کا پابند ہوں۔ انہوں نے کانگریس کے امیدوار لکشمی ہیبلکر سے رام مندر مسئلہ پر موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر شریمتی لکشمی رام مندر کی تعمیر کی تائید کرتے ہیں تو وہ خود اپنا ووٹ لکشمی کو دیں گے۔ سنجے پاٹل نے عوام سے کہا کہ اگر آپ کانگریس کو ووٹ دیں گے تو وہ بابری مسجد تعمیر کرے گی۔ کانگریس کی امیدوار شریمتی لکشمی نے بی جے پی پر ہندوتوا کارڈ کھیلنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی کے پاس ترقی کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنجے پاٹل نے گزشتہ 10 برسوں میں اپنے حلقے کی ترقی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھائے اور اب مذہبی جذبات کو بھڑکاکر کاکمیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران کرناٹک حکومت نے بی جے پی کی اس سازش کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ رکن اسمبلی سنجے پاٹل کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی نے سنجے پاٹل کی طرح دیگر کئی قائدین کو میدان میں اتارا ہے جو پرچہ نامزدگی کے ادخال کی تکمیل کے بعد اپنے متنازعہ بیانات کا آغاز کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق سنگ پریوار نے اپنی تمام تنظیموں کو کرناٹک میں متحرک کردیا ہے جو دیہی سطح پر عوام میں بی جے پی کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران سدارامیا حکومت کے لیے بھی امتحان رہے گا کہ وہ کس طرح اشتعال انگیز تقاریر سے نمٹے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے کرناٹک کے سلسلہ میں جو سروے منعقد کیا اس میں سدارامیا کو برتری دکھائی گئی۔ عوام نے کارکردگی کے اعتبار سے سدا رامیا کی ستائش کی اور بیشتر طبقات بھی کانگریس کے ساتھ دیکھے گئے۔ اس سروے کے بعد بی جے پی نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے انتخابات کو مذہبی رنگ دینے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ C-4 کی جانب سے کیے گئے اپونین پول کے مطابق کانگریس پارٹی سادہ اکثریت کے ساتھ دوبارہ حکومت قائم کرے گی۔ 2011ء میں اسی ادارے کے سروے میں کانگریس کو 120 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی تھی اور اسے 122 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس مرتبہ سروے میں کانگریس کو 115 نشستوں کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور اس کی نشستیں 70 تک جاسکتی ہیں۔ سروے کے مطابق جنتادل سکیولر جس کے ارکان کی تعداد 40 ہے، گھٹ کر 27 تک پہنچ جائے گی۔ 46 فیصد رائے دہندے سدا رامیا کے حق میں ہیں جبکہ بی جے پی کو 31 فیصد اور جے ڈی ایس کو 16 فیصد عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ اس سروے میں 154 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا گیا اور 22,354 افراد کی رائے حاصل کی گئی۔ شہری علاقوں میں 326 اور دیہی علاقوں میں 977 پولنگ بوتھس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مردوں میں 44 اور خواتین میں 48 فیصد رائے دہندے کانگریس کی تائید می ہیں جبکہ بی جے پی کے حق میں 33 فیصد مرد اور 29 فیصد خواتین نے تائید کا اظہار کیا۔