یو پی اور گجرات اسمبلی انتخابات سے قبل بھی یہی صورتحال ہوئی تھی ۔ انتخابی مہم میں استعمال کے اندیشے
حیدرآباد 17 اپریل(سیاست نیوز) نوٹ بندی کے بعد سے ملک میں نقد رقومات کی جو صورتحال ہے اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ نقد کرنسی ملک سے غائب ہوجائے گی اور اگر کرنسی تنسیخ کے بعد سے کرنسی کی قلت کے وقت کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوگا کہ ملک کی کسی اہم ریاست کے انتخابات سے عین قبل اے ٹی ایم خالی اور بینک محدود نقد کی اجرائی کیلئے مجبور ہونے لگے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ سال انتخابات کے دوران کہیں ملک بھر سے کرنسی غائب تو نہیں ہوجائے گی!شہر حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستو ںمیں اے ٹی ایم مراکز میں نقدرقومات نہ ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے اور سابق میں یہ صورتحال اترپردیش انتخابات سے قبل پیش آچکی ہے ۔ حکومت نے یو پی انتخابات سے قبل کرنسی تنسیخ کا فیصلہ کیا تھا اور طویل مدت تک اے ٹی ایم مشینوں میں نقد رقم نہ ہونے کی شکایت عام رہی لیکن اسی طرح کی شکایات دوبارہ گجرات میں اسمبلی انتخابات سے قبل پیدا ہوئی اور سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں متعدد اطلاعات گشت کرتی رہیں ۔ اب جبکہ کرناٹک انتخابات کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کردیا گیا اور انتخابی مہم عروج پر پہنچتی جا رہی ہے ایک مرتبہ پھر ملک بھر کے اے ٹی ایم مراکز میں نقد نہ ہونے کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔ عوامی شعبہ کے بینک عہدیداروں کا کہناہے کہ 2000 کے کرنسی نوٹوں کی وافر مقدار موجود ہونے کے باعث حالیہ عرصہ میں نقد کی قلت کی کوئی شکایت محسوس نہیں کی جارہی تھی لیکن گذشتہ ایک ماہ کے دوران اگر نقد رقومات کے لین دین کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر 2000 کے کرنسی نوٹ کا بھاری مقدار میں ذخیرہ کرلیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق بازار سے 5لاکھ کروڑ تک کے 2000 کے کرنسی نوٹ غائب ہیں جن کے متعلق شبہ کیا جا رہاہے کہ یہ پھر کالے دھن کا حصہ بن چکے ہیں جن کا اب باہر آنا دشوار ہے ۔ ملک میں کرنسی تنسیخ کے بعد انتخابات سے عین قبل نقد کی قلت سے شبہ پیدا ہورہا ہے کہ کہیں انتخابی عمل میں استعمال کی جانے والی دولت کیلئے تو یہ قلت پیدا نہیں کی جا رہی ! کرناٹک انتخابات سے قبل بیشتر ریاستوں میں اے ٹی ایم میں نقد نہ ہونے کی اطلاع اور اس سے قبل گجرات انتخابات سے قبل بھی ایسی ہی صورتحال کا پیدا ہونا ان شبہات کو تقویت پہنچاتا ہے ۔ انتخابات میں کالے دھن کے استعمال سے ہر کوئی واقف ہے اور انتخابات کے دوران نقد رقومات ہی خرچ کی جاتی ہیں ۔ اسی لئے کہا جانے لگا ہے کہ کرناٹک انتخابات کے باعث اے ٹی ایم خالی پڑے ہیں؟