ریونیو، وقف عہدیداران اور قابضین سے بات چیت، منگل کو ہائی کورٹ میںرپورٹ کی پیشکشی
حیدرآباد۔/23 جون، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے حیدرآباد ہائی کورٹ نے خصوصی دلچسپی دکھاتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رنگاریڈی سے رپورٹ طلب کی۔ رنگاریڈی کے سیکنڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج آئی وی سرینواس نے آج کرمن گھاٹ میں درگاہ حضرت عنایت شاہ ؒ کے تحت واقع 50 ایکر 8 گنٹے اراضی کا معائنہ کیا۔ ان کے ہمراہ وقف بورڈ کے عہدیدار، اسٹینڈنگ کونسل،ریونیو عہدیدار اور اراضی پر دعویداری پیش کرنے والے افراد موجود تھے۔250 کروڑ مالیتی اس قیمتی اراضی پر تین طرح کے تنازعات چل رہے ہیں۔ 2006 میں وقف بورڈ نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جسے چیلنج کیا گیا۔ جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ نے حال ہی میں گزٹ نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر شاہنواز قاسم کی دلچسپی سے اس مسئلہ میں ڈیویژن بنچ پر اپیل کی گئی۔ کارگذار چیف جسٹس رمیش رنگناتھن اور جسٹس اوما دیوی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سنگل جج کے احکامات کو کالعدم کرتے ہوئے سیکنڈ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج رنگاریڈی سے رپورٹ طلب کی۔ منگل کو وہ عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کردیں گے جس کی بنیاد پر وقف اراضی سے متعلق کوئی فیصلہ ہوگا۔ معائنہ کے دوران پتہ چلا کہ اراضی کے ایک حصہ میں زراعت جاری ہے، ایک طرف فیکٹری قائم ہوگئی، دوبڑے شیڈ تعمیر کئے گئے اور 2 ٹمبر ڈپوز موجود ہیں۔ کھلی اراضی کے علاوہ مسجد ، قبرستان اور درگاہ شریف موجود ہے۔ درگاہ کے ذمہ داروں نے جج کو بتایا کہ نظام کے آباء و اجداد نے حضرت عنایت شاہ کیلئے یہ اراضی مختص کی تھی۔ 3 گھنٹوں سے زائد تک اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے جج نے فریقین کی سماعت کی اور فوٹو گرافس لیئے۔ انہوں نے دستاویزات کا معائنہ کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ میں شامل کیا۔ محکمہ مال کے ریونیو سرویئر، متعلقہ تحصیلدار کے علاوہ وقف بورڈ کے سرویئر اور 2 عہدیدار موجود تھے۔ ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل ایم اے مجیب نے ڈسٹرکٹ جج کو تفصیلات سے واقف کرایا۔ مقامی افراد نے بتایا کہ انہوں نے انعامدار سے یہ اراضی قول پر حاصل کی ہے۔ بعض افراد نے اسے اپنے آباء و اجداد کی اراضی قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ جج تمام تفصیلات پر مشتمل اپنی رپورٹ ڈیویژن بنچ پر داخل کریں گے۔