کرفیو زدہ علاقہ میں اضطراب آمیز سکون

پولیس فائرنگ کے خلاف مکہ مسجد کے قریب احتجاج ۔ سنگباری

حیدرآباد ۔/16مئی، (سیاست نیوز ) راجندر نگر کے کرفیو زدہ علاقہ میںآج اضطراب آمیز سکون رہا اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس کے سبب پولیس نے کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی کا فیصلہ کیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ راجندر نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں کل صبح دو گھنٹے اور سہ پہر کے وقت دو گھنٹوں کی نرمی دی جائیگی ۔ نرمی کے دوران پولیس کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور آج کمشنر پولیس سائبر آباد مسٹر سی وی آنند اور دیگر اعلی عہدیداروں نے کرفیو زدہ علاقہ کا دورہ کیا اور وہاں پر حالات کا راستہ طور پر جائزہ لیا۔ آج جمعہ کے موقع پر پولیس انتہائی چوکس تھی لیکن مکہ مسجد کے قریب بعد نماز جمعہ برہم ہجوم نے نعرہ بازی کی جنہیں پولیس نے منتشر کردیا ۔کشن باغ ،عرش محل میں سکھ اشرار کی جانب سے مسلمانوں پر حملے اور نہتے مسلمانوں پر بی ایس ایف کی فائرنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کا ایک ہجوم نے بطور احتجاج نعرہ بازی کی۔

برہم ہجوم مغل پورہ فائر اسٹیشن ،خواجہ کا چھلہ اور عشرت محل شادی خانہ کے قریب سنگباری کی جس میں پانچ گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور ایک آٹو ڈرائیور بھی زخمی ہوگیا تھا ۔ ہجوم میں موجود نوجوانوں نے ایک بینک پر بھی سنگباری کی ۔ جمعہ کے موقع پر مکہ مسجد کے قریب بندوبست میں موجود پولیس عملہ نے ہجوم کا تعاقب کیا اور بعدازاں مقامی پولیس نے اس سلسلہ میںمقدمہ میں درج کئے ہیں۔کشن باغ تشدد میںملوث سکھ اشرار کو گرفتار کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری اور اس کیلئے کئی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ کل 23 ملزمین کو گرفتار کر کے راجندر نگر پولیس نے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ گذشتہ 48 گھنٹوں سے کرفیو نافذ ہونے کے باعث عرش محل جو ایک غریب بستی ہے میں عوام اناج اور گھریلو اشیاء سے محروم ہیں۔ رات دیر گئے موصولہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے رات کے وقت اقلیتی طبقہ کے گھروں میں گھس کر نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ بعض نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں جن کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے ۔