کرشن چندر کو فراموش کرنا‘ ادبی حلقوں کیلئے نامناسب

حیدرآباد۔19جنوری ( سیاست نیوز) ماہر فن ادیب کرشن چندر کو ادبی حلقے ہی فراموش کرنے لگے ہیں ۔ کرشن چندر کی صدی تقاریب منائی جارہی ہے اور وہ بھی محدود پیمانے پر منعقد ہورہی ہے ۔ یہ بات ادبی حلقوں کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ کنوینر اردو مشاورتی بورڈ ساہتیہ اکیڈیمی جناب چندرا بھان خیال نے ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے سالارجنگ میوزیم میں منعقدہ سمپوزیم بعنوان ’’ کرشن چندر : فکر و فن ‘‘ سے صدارتی خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عظیم مصنف و ادیب کی صدی تقاریب کا شاندار پیمانے پر انعقاد ہونا چاہیئے اور اس کی ادبی حلقوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کرشن چندر نے اپنی تحریروں کے ذریعہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا ۔ جناب چندر بھان خیال نے کہا کہ کرشن چندر نے ادب اور اپنی افسانوی تحریروں کے ذریعہ علمی طبقہ پر جو اثرات چھوڑے ہیں وہ آج بھی نظرآتے ہیں ۔ اسی کے نتیجہ میں آج بھی کرشن چندر کی تحریروں کو خوب سراہا جاتا ہے ۔ ادب کے فروغ کیلئے ادیبوں کی خدمات کو یاد رکھا جانا ناگزیر ہے ۔ اس تقریب میں پروفیسر ایس اے شکور نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ پروفیسر محمد بیگ احساس نے کرشن چندر کی حیات و خدمات پر کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ ابتداء میں جناب مشتاق احمد صدف نے خیرمقدمی کلمات کہے ۔پروفیسرایس اے شکور نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ کرشن چندر ایک ایسے ادیب تھے جنہیں ہر طرح کی تحریروں میں مہارت حاصل رہی ۔ انہوں نے نہ صرف کہانی و افسانے لکھے بلکہ سفر نامے اور دیگر مقالات پر بھی کافی کام انجام دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کرشن چندر کا منفرد انداز بیان ان کی تحریروں کی اہمیت میں اضافہ کرتاہے ۔

ڈاکٹر ایس اے شکور نے بتایا کہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے بھی بہت جلد کرشن چندر کی حیات و ادبی خدمات پر سمپوزیم یا سمینار کا انعقاد عمل میں آئے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ کرشن چندر نے اپنے قلم کے ذریعہ سماج کے ایسے مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جو سماج کے مختلف طبقات میں سرائیت کرچکے تھے ۔ کرشن چندر اپنے افسانوں کی تحریروں کے ذریعہ اپنے قاری کو محو کرنے کا فن جانتے تھے اور جو کوئی کرشن چندر کے افسانے پڑھا کرتا وہ ان افسانوی کرداروں کو خود میں بھی محسوس کیا کرتا تھا ۔ڈاکٹر ایس اے شکور نے بتایا کہ آندھراپردیش ریاستی اردو اکیڈیمی کی جانب سے اردو کے فروغ کیلئے متعدد اسکیمات چلائی جارہی ہے اور مستقبل میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بنیادی تعلیم کو بہتر بناتے ہوئے اردو زبان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتاہے اسی لئے بنیادی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے ۔

پروفیسر محمد بیگ احساس نے اس موقع پر اپنے کلیدی خطبہ کے دوران کرشن چندر کی خدمات برائے ادب کے علاوہ حیات و فن پر تفصیلی کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ کرشن چندر نے اپنی فکر اور فن کے ذریعہ ادب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیاہے ۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ کرشن چندر کی تحریریں کسی ایک موضوع پر نہیں بلکہ ہر اس موضوع پر ہیں جس کا معاشرتی زندگی سے تعلق ہو ۔ انہوں نے کلیدی خطبہ کے دوران کرشن چندر کی فکر اور اُن کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہوئے ان کے فن کی ستائش کی ۔